اسلا م آباد (آئی این پی )سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو ججز سنیارٹی کیس کی سماعت کے دوران بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ٹرانسفر ہونے والے تینوں ججز نے وکیل نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا مستقل چیف جسٹس تعینات نہیں کیا جارہا، آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست واپس لیے جانے کی بنیاد پر خارج کردی، اور سماعت 22 اپریل تک ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلے اور سنیارٹی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تینوں ججز کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، ان کا وکیل کون ہے؟۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے موقف اختیار کیا کہ مجھے تینوں ججز کی جانب سے پیغام ملا ہے، جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم سومرو اور جسٹس محمد آصف سپریم کورٹ میں کوئی وکیل نہیں کر رہے، تینوں ججز نے کہا ہے کہ آئینی بینچ جو بھی فیصلہ کرے گا انہیں قبول ہوگا