افغان طالبان کے خلاف مزاحمتی محاذ مزید سرگرم

افغان طالبان کے خلاف مزاحمتی محاذ مزید سرگرم

افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے قندھار اور ہلمند میں تازہ کارروائیوں کے دوران 3 طالبان سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق ہلمند کے ضلع نوا میں امام رباط چوکی کے علاقے میں طالبان اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ کارروائی کے دوران 2 کلاشنکوف رائفلیں بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تازہ دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔یونائیٹڈ فرنٹ نے قندھار شہر کے باغ پل بازار میں بھی کارروائی کا دعویٰ کیا، جس میں اس کے مطابق طالبان انتظامیہ کا ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا۔ طالبان حکام کی جانب سے ان دونوں واقعات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کا کہنا ہے کہ طالبان کے خلاف اس کی مسلح کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور قندھار سے بلخ اور ہرات سے بدخشاں تک مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی جائیں گی۔رپورٹس کے مطابق افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے رواں سال یکم اگست سے طالبان کے خلاف مسلح مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس گروہ کی قیادت سابق افغان فوجی کمانڈر جنرل سمیع سادات کر رہے ہیں۔

 فرنٹ نے رواں ماہ کے آغاز میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ماہ کے دوران افغانستان کے 14 صوبوں میں 43 کارروائیاں کیں، جن میں 74 طالبان اہلکار ہلاک اور 35 زخمی ہوئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔حالیہ ہفتوں میں قندھار اور ہلمند سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان مخالف گروہوں کی جانب سے حملوں کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق یونائیٹڈ فرنٹ کی کارروائیاں خصوصاً قندھار اور ہلمند میں مرکوز رہی ہیں۔دوسری جانب طالبان حکام افغانستان میں مجموعی سکیورٹی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیتے رہے ہیں، تاہم ملک کے مختلف حصوں میں طالبان مخالف گروہوں اور دیگر مسلح تنظیموں کی کارروائیاں سکیورٹی کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہیں۔