تصور حسین شہزاد
قطر پر ہونیوالے اسرائیلی حملے کے بعد پہلی بار عربوں کو احساس ہوا ہے کہ اسرائیل کسی کا خیر خواہ نہیں، بلکہ باری باری سب کی باری آئے گی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ دوحہ اجلاس میں کسی عرب ملک نے اسرائیل کو قابض ریاست نہیں کہا سب نے گریٹر اسرائیل کو اپنے لئے خطرہ کہا، غزہ کے محاصرے کیخلاف کسی عرب حکمران نے کچھ نہیں کہا، صرف نمائشی امداد کی باتیں اور بس اس کے سوا کچھ نہیں۔ پورے اجلاس میں اسرائیل کیخلاف کسی فوجی عملی اقدام کی کوئی بات نہیں ہوئی، قانونی چارہ جوئی سے متعلق بھی صرف تجاویز پیش کی گئیں۔ اسرائیل کے کسی بھی قسم کے اقتصادی بائیکاٹ کی باقاعدہ کوئی عملی بات نہیں کی گئی، جن عرب ممالک کے اسرائیل سے سرکاری تعلقات ہیں یا اقتصادی تعلقات ہیں، انہوں نے بھی کسی رابطے کو ختم کرنے یا کم کرنے کی کوئی بات نہیں کی۔ حماس کی حمایت میں اس اجلاس میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ اگر یہ کہا جائے کہ مغرب کا پیش کردہ دو ریاستی حل، عرب ممالک کا بطور لائحہ عمل اجلاس پر حاوی رہا جو کہ کسی طور بھی عملی ہونیوالا نہیں، کیونکہ عربوں کے مذکورہ بالا حالات دیکھ کر تو اسرائیل مزید تیزی سے اپنے عزائم پورے کرے گا۔ اصل میں عربوں کو ایک بہادر قیادت کی ضرورت ہے۔ عرب چاہتے ہی کہ وہ قیادت ’’عرب‘‘ ہو۔ وہ عجمیوں کو آج بھی ’’کم تر‘‘ تصور کرتے ہیں۔ جبکہ نبی کریم (ص) نے واضع اس نظریے اور فکر کی مذمت فرمائی تھی اور حدیث میں واضح ہے کہ ’’تمہارا رب ایک، تمہارا باپ آدم ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کالے پر، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی برتری نہیں، فضلیت کا معیار صرف تقوی ہے، تم سب آدم کی اولاد ہو، تم سب پر ایک دوسرے کا خون، عزتیں اور مال حرام ہے، خبردار، میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ اک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگو‘‘ اس حدیث کی رْو سے امت کے ا?ج کے احوال کا ذکر کھلے لفظوں میں بیان کیا گیا ہے۔اب دوحہ کانفرنس کے احوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ کس نے کتنا جلال دکھایا اور اس کے مقاصد کیا تھے۔ اجلاس میں مسلم ممالک کے سربراہان نے کہا کہ اسرائیل نے تمام ریڈلائنز عبور کرلی ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا اور مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے مسئلہ فلسطین حل کرنا ہوگا، صہیونی جارحیت روکنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی نے کہا کہ اسرائیل نے قطرکی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی ہے۔ قطر نے ثالث کے طور پر خطے میں امن کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں۔ شیخ تمیم بن حمدالثانی نے کہا کہ اسرائیل نے مذاکراتی عمل کو سبوتاڑ کرتے ہوئے حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا، اسرائیل کی جانب سے خطے کے ملکوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی ہورہی ہے، اسرائیل نے انسانیت کیخلاف جرائم میں تمام حدیں پار کردی ہیں۔ امیر قطر نے کہا کہ یرغمالیوں کی پرامن رہائی کے تمام اسرائیلی دعوے جھوٹے ہیں، گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا عالمی امن کیلئے شدید خطرہ ہے۔ شیخ تمیم بن حمدالثانی نے کہا کہ صیہونی حکومت انسانیت کیخلاف جرائم کی مرتکب ہوئی ہے، اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی سنگین پامالی لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں سے امن کو خطرات لاحق ہیں، مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے مسئلہ فلسطین حل کرنا ہوگا۔ دریں اثنا سیکرٹری جنرل عرب لیگ احمد ابوالغیط نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم ایک ایسے وقت میں اکٹھے ہوئے ہیں جب خطے کو بہت چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی دہشتگردی نے صورتحال کو گمبھیر کر دیا ہے، فلسطینیوں کی نسل کشی کیخلاف آواز بلند کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کوجنگی جرائم پر اسرائیل کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نے خطے کے مسائل کو سنگین کر دیا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پرعالمی برادری کی خاموش معنی خیز ہے، عالمی برادری کو دوہرا معیار ترک کرنا ہوگا۔ عراقی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی مظالم اور بھوک سے تباہ حال انفرااسٹرکچر نے غزہ میں زندگی مشکل کر دی ہے۔ محمد شیاع السوڈانی نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات ہماری اجتماعی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ اہم اجلاس طلب کرنے پر امیر قطرکا مشکور ہوں، اسرائیل کے جارحانہ اقدامات پر خاموش نہیں رہ سکتے، اسرائیل نے تمام ریڈ لائنز عبور کرلی ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹراورعالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا۔ مصری صدر نے کہا کہ فلسطین میں انسانیت سسک رہی ہے، انسانیت کیخلاف جرائم پر اسرائیل کو کوئی استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل دانستہ طور پر خطے کا امن تباہ کرنے کے درپے ہے، جبر اور تشدد سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔ فلسطین کے صدرمحمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم تمام حدیں پار کر چکے ہیں، صہیونی جارحیت روکنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی روکنا اور فوری امداد کی فراہمی ناگزیر ہے۔ محمود عباس نے کہا کہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کا قیام ہی امن کا راستہ ہے۔ اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس حملے کیلئے عرب اور اسلامی ریاستوں کے متفقہ اور پْرعزم موقف کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کیلئے قطر کی ریاست کی طرف سے اٹھائے جانیوالے تمام اقدامات کیلئے تعاون کی مکمل حمایت کا اظہار کیا اورعالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اس کے تمام جرائم کیلئے جوابدہ ٹھہرایا جائے، خطے میں اس کی سنگینی اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے پر مجبور کیا جائے۔ سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست قطر پر اسرائیلی حملہ فلسطینی عوام، ان کی سرزمین اور ان کے مقدس مقامات کیخلاف اسرائیل کے جرائم کی توسیع ہے۔ انہوں نے جنگ بندی کیلئے عالمی برادری کی کوششوں کو تقویت دینے، پوری غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی مناسب اور مستقل فراہمی کو یقینی بنانے اور اسرائیلی قابض افواج کے انخلاء کیلئے زور دیا۔ اس موقع پر سکریٹری جنرل نے مسئلہ فلسطین کے تصفیے اور دو ریاستی حل کے نفاذ پر بین الاقوامی کانفرنس کے نتائج کیلئے او آئی سی کی حمایت کا اظہار کیا، جس سے فلسطینی عوام اپنے جائز حقوق بشمول حق خودارادیت کا استعمال کر سکیں۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسرائیل نے ہمارے برادر ملک قطر کی خودمختاری، سلامتی کی خلاف ورزی کی، جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانا ہوگا، اقدامات نہ کیے تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہم ایک اہم اور افسوسناک واقعے کے تناظر میں اکٹھے ہوئے ہیں، اسرائیل نے ہمارے برادر ملک قطر کی خود مختاری، سلامتی کی خلاف ورزی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قطر کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، اسرائیل کا قطر پر حملہ جارحانہ اقدامات کا تسلسل ہے، اسرائیل نے جارحیت کے ذریعے امن
کی کوششوں کو شدید دھچکا دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یو این سکیورٹی کونسل غزہ میں فوری سیز فائر کرائے، غزہ میں طبی عملے کو فوری رسائی دی جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سب اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، بجائے خاموش رہنے کے ہمیں متحد ہونا ہوگا، اس جارحیت کے بعد سوال یہ ہے کہ اسرائیل نے مذاکرات کا ڈھونگ کیوں رچایا؟ اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑانا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے، انسانیت کیخلاف جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔ ہم اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کے حامی ہیں۔ غزہ میں شہری آبادی کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں، ہم نے اجتماعی دانش سے اقدامات نہ کیے تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ قطرکیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، مسلمان ملکوں کی طرف سے قطر کیساتھ اظہار یکجہتی قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم مشرق وسطیٰ اورعالمی امن کیلئے شدید خطرہ ہیں، اسرائیل سمجھتا ہے کہ اسے کوئی نہیں پوچھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کا نہ رْکنے والا سلسلہ جاری ہے، نسل کشی، قبضہ، بھوک اور تشدد اسرائیل کی پالیسی ہے، کھلی جارحیت اور جرائم پر صہیونی حکومت کو رعایت نہیں دی جا سکتی۔ ترک صدر نے کہا کہ مسلمان ملکوں کو اپنی صفوں میں اتحاد کے ذریعے آگے بڑھنا ہے، آنیوالی نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے ہمیں باہمی تعاون بڑھانا ہوگا۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ او آئی سی فریم ورک کے تحت اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لانے کیلئے حکمت عمل وضع کی جائے۔