وزیر اعظم نے مبارکباد دی ، وزیراعلٰی پختونخوا کی عمران سے ملاقات نہ ہوئی ، سہیل آفریدی کی حفاظتی ضمانت منظور
اسلام آباد، راولپنڈی ،(خصوصی رپورٹ )وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے ،وزیراعظم نے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔جمعرات کو وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے مفاد میں وفاق آپ کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار ہے۔سہیل آفریدی عمران خان سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل گئے تو ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی۔ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو پولیس نے داہگل ناکے پر روک دیا تھا،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی 2 گھنٹے تک انتظار کے بعد داہگل ناکے سے واپس روانہ ہوگئے۔قبل ازیں پشاور ہائی کورٹ آمد کے موقع پر اور داہگل ناکے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ میں کروڑوں عوام کی نمائندگی کرتا ہوں، جو لوگ ملاقات کرنے نہیں دے رہے، انہیں احساس کرنا چاہیے کہ میں وزیراعلیٰ ٰہوں۔سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ کابینہ کی جو فہرست جاری کی گئی ہے وہ جعلی ہے، بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد کابینہ کو فائنل کریں گے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مبارکباد دی ان کا شکریہ، پنجاب اور وفاق کو بانی سے ملاقات کرنے کا بتایا تھا مگر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ملاقات کرانے سے متعلق بات کرنے پر شہباز شریف نے کہا پوچھتا ہوں پھر بتاتا ہوں لیکن ان کا جواب نہیں آیا، ہم تمام طریقے آزمائے چکے اور ایک بار پھر آزمائیں گے، پی ٹی آئی ہمیشہ احتجاج کرتی آئی ہے اور یہ راستے اب بھی کھلے ہیں۔ادھر پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس نعیم انور پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے وزیر اعلی سہیل آفریدی کے مقدمات کی تفصیلات کیلئے درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی اور سہیل آفریدی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے انہیں کسی بھی مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا،دوران سماعت جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی کس ایف آئی آر میں نامزد ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ ہمیں تو پتا نہیں کہ کتنی ایف آئی آرز ہیں، ہو سکتا ہے میرے خلاف بھی ایف آئی آر ہوں۔