ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا وقت لینے کیلئے سیز فائر قبول نہیں شہبازشریف
افغانستان سنجیدہ ہے تو سیز فائر کو آگے بڑھائے،پاکستان اور افغان کی طویل سرحد ہے، ہم نے بھائی چارے کے رشتے کو قائم رکھا اس کے باوجود افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی جاری رہی
افغان حکومت کو کئی بار سمجھانے کی کوشش کی ‘ بدقسمتی سے ہماری تمام کاوشوں کے باوجود امن کو ترجیح نہیں دی،فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج نے خوارج کو بھرپور جواب دیا: وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب
بطور قوم ہمیں غذائی تحفظ اور موسمیاتی چیلنجز کے مقابلے کے لئے متحد ہونا ہوگا، خوراک کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں‘ زراعت کی ترقی اور کسان کی خوشحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے : وزیراعظم کا عالمی یوم خوراک پر پیغام
اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور مجبورا افغانستان میں خوارج کے خلاف جوابی کارروائی کی، افغان حکومت اگر سنجیدہ ہے تو سیز فائر کے معاملے کو آگے بڑھائے محض وقت حاصل کرنے کے لیے سیز فائر منظور نہیں۔اسلام آباد میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغان کی بہت بڑی طویل سرحد ہے، ہم نے بھائی چارے کے رشتے کو قائم و دوام رکھا، افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی جاری رہی، ہم نے افغان حکومت کو کئی بار سمجھانے کی کوشش کی مگر بدقسمتی سے ہماری تمام کاوشوں کے باوجود افغان حکومت نے امن کو ترجیح نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان پر حملہ کیا گیا جس پر ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور مجبورا ہمیں جوابی کارروائی کرنی پڑی، فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج نے خوارج کو بھرپور جواب دیا،جب پاکستان پر حملہ ہوا اس وقت افغان وزیر خارجہ دہلی میں بیٹھے تھے، افغانستان نے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے، طویل مدت کے لیے جنگ بندی ہو محض وقت حاصل کرنے کے لیے عارضی سیز فائر منظور نہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم افغان حکومت کے ساتھ بھائی چارے کا رشتہ قائم رکھنا چاہتے ہیں مگر ہم افغان حکومت کے ساتھ جائز شرائط پر بات چیت کریں گے، اگر افغان حکومت سنجیدہ ہے تو سیز فائر کی جو درخواست کی ہے اس کو آگے بڑھائے، قطر اس معاملے میں سنجیدگی کے ساتھ گہرائی کے ساتھ کاوشیں کررہا ہے، امیر قطر نے شرم الشیخ میں مجھ سے کہا کہ پاکستان پر یہ حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا ہم چاہتے ہیں جنگ بندی ہو اس کے لیے کردار ادا کرنا چاہتے ہیں‘دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بطور قوم ہمیں غذائی تحفظ اورموسمیاتی چیلنجز کے مقابلے کیلئے متحد ہونا ہوگا، پاکستان آج اقوام عالم کے ساتھ خوراک کی فراہمی کی اہمیت اجاگر کر رہا ہے، خوراک کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے ملکی و عالمی سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یوم خوراک پر اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی یوم خوراک کا موضوع بہتر مستقبل اور بہتر خوراک کے ل ئے مشترکہ کاوشیں انتہائی اہم ہے، کسان، عوام اور اداروں کے درمیان تعاون سے ہی غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی ممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زراعت کی ترقی اور کسان کی خوشحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے، غذائی تحفظ کا پہلا قدم کسان کی معاشی آسودگی اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ ہے۔