دہلی دھماکے میں شیطان کی ماں کا استعمال، بھارتی حکام کی تحقیقات میں نئی کہانی

نئی دہل(آئی این پی )بھارتی حکام نے دعوی کیا ہے کہ دہلی میں لال قلعہ کے قریب 10 نومبر کو ہونے والے مہلک دھماکے میں دنیا کے سب سے خطرناک اور غیر مستحکم دھماکا خیز مواد مدر آف سیٹن( شیطان کی ماں)  استعمال ہوا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق، پولیس نے ابتدا میں دعوی کیا تھا کہ گاڑی میں امونیم نائٹریٹ تھا، جو ایک نسبتا عام دھماکا خیز کیمیکل ہے۔ مگر اب اچانک دعوی کیا گیا ہے کہ دھماکا شاید ٹرائی ایسیٹون ٹرائی پرآکسائیڈ (ٹی اے ٹی پی) سے ہوا۔ جو کہ انتہائی حساس ہے اور درجہ حرارت میں معمولی تبدیلی سے بھی پھٹ سکتا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر اتنا حساس مواد گاڑی میں تھا تو وہ پرہجوم علاقے میں کئی گھنٹوں تک بغیر پھٹے کیسے چلتی رہی؟ یہ سوال بھارتی پلاننگ کی غلطیوں یا کسی اندرونی ڈرامے کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔بھارتی تفتیش کاروں کے مطابق گاڑی چلانے والا عمر محمد نامی شخص تھا، جسے بھارت نے پہلے ہی پاکستان سے جوڑ کر اپنی پرانی کہانی دہرانے کی کوشش کی ہے