برطانیہ (آئی این پی)آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی انسانوں جیسے سماجی معمولات کو اپنا سکتی ہے۔یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی۔برطانیہ کی سٹی سینٹ جارج یونی ورسٹی اور ڈنمارک کی آئی ٹی یونی ورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ لارج لینگوئج ماڈل پر کام کرنے والے اے آئی ا یجنٹس جیسے چیٹ جی پی ٹی گروپس میں کسی باہری مداخلت کے بغیر بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ لسانی خصوصیات اور سماجی معمولات کو بالکل اسی طرح اپنا سکتے ہیں جیسے انسان معاشرے میں گھلنے ملنے کے عمل کے دوران اپناتے ہیں۔محققین نے بتایا کہ ابھی اے آئی پر ہونے والے تحقیق کام میں ان سسٹمز کا جائزہ انفرادی سطح پر لیا جاتا ہے مگر حقیقی دنیا کے اے آئی سسٹمز بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔محققین کے مطابق نتائج سے اے آئی کے حوالے سے تحقیق کا نیا دروازہ کھلا ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ اے آئی ایجنٹس کس حد تک سمارٹ ہوتے جا رہے ہیں۔اس تحقیق کے نتائج جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئے۔