وفاقی حکومت کا کم آمدن والے افرادکیلئے 23 ارب کی سبسڈی دینے کا فیصلہ

سبسڈی موٹر سائیکل اور رکشہ رکھنے والوں کو فراہم کی جائے گی،  ملک میں 14 اپریل کے بعد ایل این جی دستیاب نہیں ہو گی:سیکرٹری پٹرولیم 
اسلام آباد(آئی  این پی )وفاقی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والے 23 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے،سیکرٹری پٹرولیم کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم کی سپلائی متاثر ہوئی ہے ، 70 فیصد پیٹرولیم مشرق وسطی سے آتا ہے،اس وقت جہازوں کی آمد و رفت بند ہے جس کے باعث قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ   ملک میں 14 اپریل کے بعد ایل این جی دستیاب نہیں ہو گی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم  کااجلاس سینیٹر منظور احمد کی زیر صدارت   منعقد ہواجس میں پیٹرولیم مصنوعات کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس میں  سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والی 23 ارب رقم کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا، جو موٹر سائیکل اور رکشہ رکھنے والوں کو فراہم کی جائے گی۔ 30 ملین ٹو ویلرز اور تھری ویلرز کو سبسڈی دی جائے گی۔حکام کے مطابق سبسڈی بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام ڈیٹا کے مطابق مستحقین کو دی جائے گی، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے سبسڈی کے حوالے سے ورکنگ شروع کر دی۔ کفایت شعاری پالیسی کے تحت جو بچت ہوگی وہ سبسڈی میں دی جائیگی۔ جیسے کورونا میں سبسڈی دی گئی ویسے ہی دی جائے گی۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ یہ 23 ارب روپے کہاں سے آئیں گے کون سے اقدامات کیے گئے، روپیکا فائدہ کمپنیوں کے بجائے عوام کو دیا جائے، جس پر حکام نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق بچت کے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے خطے کی کشیدگی کے بعد سپلائی کے حوالے سے بریفنگ دی۔