رمضان المبارک میں احتیاطی تدابیر

پروفیسر حکیم سید عمران فیاض

افطاری میں زیادہ مرغن غذا اور کولڈ ڈرنکس کے استعمال سے پرھیز کریں۔ جگر ،گردوں، دل اور شوگر کے مرض میں مبتلا افراد کے لئے روزہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے جبکہ افطاری میں سموسے، پکوڑے ، دہی بھلے اور کولڈ ڈرنکس کا استعمال معدے میں تیزابیت بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے بے احتیاطی کی صورت میں بے ہوشی اور پیشاب کی نالی میں سوزش جیسے امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔  زیادہ شوگر ، گردوں،جگراور دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا جاتا ہے تاکہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق نہ ہو ایسے مریض جن کی شوگر کنٹرول نہیں رہتی یا 300 سے زائد رہتی ہے انہیں روزہ رکھنے سے منع کیا جاتا ہے کیونکہ شوگر بڑھنے سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے گردوں کے مرض میں مبتلا افراد یا پھر جن کے گردے میں پتھری ہو پانی کی کمی کے باعث مسئلہ بگڑنے اور پیشاب کی نالی میں سوزش کا خدشہ ہوتا ہے.جن مریضوں کا جگر کمزور ہوتا ہے انہیں شوگر کی ضرورت ہوتی ہے روزے کی صورت میں شوگر نہ ملنے کے باعث بے ہوش ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور اگر مریض روزے میں بے ہوش ہو جائے تو اسے روزہ فوری طور پر توڑ لینا چاہیئے دل کے عارضے میں مبتلا کو بھی روزہ نہیں رکھنا چاہیئے اس حوالے سے طبی ماھرین کا کہنا تھا کہ افطاری کے وقت پانی کی کمی کی وجہ سے معدے میں تیزابیت بڑھ چکی ہوتی ہے ایسے میں کولڈ ڈرنکس ، سموسے، پکوڑے، دہی بھلے اور دوسری تلی ہوئی چیزیں زیادہ کھانے کی صورت میں پیٹ خراب اور ہیضہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے . مزید یہ کہ افطاری کے وقت 3کھجوریں اور ایک گلاس دودھ سے روزہ افطار کرنا اور آدھا گھنٹہ بعد کھانا کھانا چاہیے تاکہ آپ کی صحت ہشاش بشاش رہے اور روزے کے ثمرات حاصل کر سکیں۔ مذید زیادہ چکنائی، سوڈیم اور چینی والی غذاؤں سے پرہیز کریں۔بھاری کھانے جن میں سیر شدہ چکنائی، سوڈیم اور شوگر ہوتی ہے  ان سے  گریز کرنا چاہیے۔ تلے ہوئے کھانے تیار کرنے  کی بجائے، بیکنگ، بھاپ، گرلڈ اور روسٹ کرنے کی کوشش کریں۔ کھانے کو ذائقہ دار بنانے کے لیے نمک اور چینی کا استعمال کرنے کے بجائے جڑی بوٹیاں اور مصالحے استعمال کریں۔ میٹھے میں پھلوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ روزہ افطار کرنے کیلئے سوپ بھی ایک بہترین  غذا ہے   کیونکہ یہ  آپ کو ہائیڈریٹ رکھتے ہیں اور وٹامنز اور معدنیات سے بھرے ہوتے ہیں۔ غذائیت سے بھرپور سوپ جیسے سبزی، ٹماٹر یا دال کا انتخاب کرنے کی کوشش کریں اور کریم پر مبنی سوپ سے پرہیز کریں۔  
اس کے علاوہ ماہ رمضان میں سبزیوں کا استعمال بھی آپ کی دن بھر کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں ، سبزیوں میں  وٹامنز، معدنیات اور فائبر  قافر مقدار میں پائے جاتے ہیں اس لئے سحر اور افطار میں  آدھا کپ کچی یا پکی ہوئی سبزیاں، یا ایک کپ 
پتوں والی کچی سبزیاں شامل کرنے کی کوشش کریں۔