امیر احمد شاہ
15 رمضان المبارک تاریخِ اسلام کا نہایت بابرکت دن ہے، کیونکہ اسی روز خانوادہ نبوت میں اس عظیم ہستی کی آمد ہوئی جو سبطِ رسول، جگر گوشہ بتول اور ہم شکلِ نبی کہلائے۔ یہ مبارک شخصیت حسن بن علی ہیں، جو شیرِ خدا علی بن ابی طالب اور سیدہ کائنات فاطمہ الزہراء کے نورِ نظر تھے۔
ولادت اور نام گذاری
امام حسن کی ولادت پر سرورِ کائنات بے حد مسرور ہوئے۔ آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اذان دی، عقیقہ فرمایا اور اللہ کے حکم سے آپ کا نام ‘‘حسن’’ رکھا، جو عرب میں اس سے پہلے عام نہ تھا۔ یہ نام حسنِ سیرت اور حسنِ صورت دونوں کا مظہر بنا۔
ہم شکلِ نبی
امام حسن شکل و شباہت میں رسولِ اکرم سے بہت مشابہ تھے۔ صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ جب وہ امام حسن کو دیکھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے رسول اللہ کی جھلک سامنے آگئی ہو۔ آپ نہ صرف ظاہری مشابہت رکھتے تھے بلکہ اخلاق، حلم، عفو و درگزر اور شفقت میں بھی نبی اکرم کی سیرت کا عکس تھے۔
فضائل و مناقب
رسولِ خدا نے ارشاد فرمایا: ‘‘حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔’’ آپ کو ‘‘سبطِ اکبر’’ کا لقب ملا، کیونکہ آپ رسول اللہ کے بڑے نواسے تھے۔ آپ عبادت گزار، سخی، بردبار اور نہایت نرم خو تھے۔ تاریخ میں آتا ہے کہ آپ نے کئی مرتبہ اپنا سارا مال راہِ خدا میں تقسیم کیا اور فقراء و مساکین کی دل کھول کر مدد فرمائی۔
حلم و صبر کی مثال
امام حسن مجتبیٰ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو آپ کا صبر اور امت کی خیر خواہی ہے۔ جب مسلمانوں میں خانہ جنگی کے آثار پیدا ہوئے تو آپ نے خونریزی روکنے اور امت کے اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے صلح کو ترجیح دی۔ یہ فیصلہ بظاہر سیاسی تھا مگر درحقیقت اسلام کی بقا اور مسلمانوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ایک عظیم قربانی تھی۔ آپ نے ثابت کیا کہ حقیقی قیادت انا نہیں بلکہ امت کی بھلائی کو ترجیح دیتی ہے۔
سیرت سے عملی پیغام
15 رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم امام حسن کی سیرت سے حلم، برداشت، ایثار، سخاوت اور اتحاد کا سبق سیکھیں۔ آج کے دور میں جب امت انتشار اور اختلاف کا شکار ہے، ہمیں سبطِ اکبر کے کردار کو مشعلِ راہ بنانا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیتِ اطہار کی محبت نصیب فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔