کراچی: ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، شہریوں میں خوف و ہراس، رواں سال ہلاکتیں 39 تک پہنچ گئیں

کراچی: ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، شہریوں میں خوف و ہراس، رواں سال ہلاکتیں 39 تک پہنچ گئیں

شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے عبداللہ گوٹھ میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 19 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا، جس کے بعد شہر میں اس نوعیت کے واقعات پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق واقعہ بدھ کی صبح اس وقت پیش آیا جب موٹرسائیکل سوار تین مسلح ملزمان نے راہگیروں کو روک کر موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔ اسی دوران نوجوان نے مزاحمت کرتے ہوئے ڈاکوؤں پر پتھر پھینکا، جس پر ملزمان نے فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہوگئے۔فائرنگ کے نتیجے میں نوجوان سینے پر گولی لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ لاش کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں مقتول کی شناخت 19 سالہ سید محمد رضوان ولد ناصر عباس کے نام سے ہوئی۔ وہ عبداللہ گوٹھ کا رہائشی اور قومی شاہراہ پر واقع ایک ٹیکسٹائل مل میں ملازمت کرتا تھا۔متوفی کے اہلخانہ نے بتایا کہ وہ صبح اپنے بھائی اور بہنوئی کے ساتھ کام پر جا رہا تھا جب راستے میں یہ واردات پیش آئی۔ اہلخانہ کے مطابق ڈاکوؤں نے پہلے لوٹ مار کی اور پھر مزاحمت پر فائرنگ کر دی۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے 4 گولیوں کے خول برآمد کیے گئے ہیں اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔ ایس ایچ او کے مطابق نوجوان کو ایک گولی سینے میں لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ادھر شہری حلقوں میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ رواں سال کراچی میں ڈکیتی مزاحمت کے دوران جاں بحق شہریوں کی تعداد 39 تک پہنچ گئی ہے، جس نے سکیورٹی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔