مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا پانی کا واحد ذریعہ اسرائیل نے تباہ کردیا
غزہ( آئی این پی )غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے تین سالہ فلسطینی بچہ شہید ہوگیا ۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں اسرائیلی سفاک اہلکار نے 3 سالہ بچے کو سر پر گولی ماری جو اس کی بائیں آنکھ سے نکل گئی اور بچہ موقع پر ہی شہید ہوگیا۔واقعے میں اسرائیلی اہلکار نے بچے کے والد کی ٹانگ پر بھی گولی ماری جو اپنے بیٹے کو گود میں اٹھائے ہوئے تھے۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ جوڑا 'یلو لائن' کے علاقے سے باہر تھا جب فوجیوں نے ایک متروک مکان سے فائرنگ کی۔ 3 سالہ بچے کی شناخت ریان نام سے ہوئی جس کی موت کی تصدیق الاقصی کے شہدا اسپتال میں کی گئی جب کہ والد زیر علاج ہیں۔دوسری جانب غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ام صفا گاں کو پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن کو بلڈوز کردیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت نے غیرقانونی آبادکاری کو وسیع کرنے کیلئے اور وہاں سڑک ہموار کرنے کیلئے مکینوں کا پانی منقطع کر دیا۔علاوہ ازیں اسرائیل انتہا پسند ہل ٹاپ یوتھ گروپ نے آبادکاری بڑھانے کیلئے 1.89 ملین ڈالر بطور معاونت کے مختص کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ذرائع نے ترک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ آبادکاروں نے فلسطینی اراضی کو بلڈوز کیا اور رام اللہ کے شمال مغرب میں واقع گاں کو پانی سپلائی کرنے والی مین پائپ لائن کو تباہ کر دیا جبکہ علاقے میں ایک نئی غیرقانونی آباد کاری کی سڑک ہموار کی۔حملے سے گائو ں میں پانی آنا بند ہوگیا ہے۔ ام صفا نے اسرائیلی آبادکاروں کی طرف سے غیر قانونی بستیوں اور چوکیوں کے ارد گرد کام کرنے والے بڑھتے ہوئے حملوں کا مشاہدہ کیا ہے، جو فلسطینیوں کو اپنی کھیتی کی زمین تک رسائی سے روک رہے ہیں۔