تل ابیب اور حیفہ پر میزائل و ڈرون حملہ، ایران کا اسرائیل پر نیا وار: سرکاری ٹی وی

تل ابیب اور حیفہ پر میزائل و ڈرون حملہ، ایران کا اسرائیل پر نیا وار: سرکاری ٹی وی

 ایران کے دعوے بمقابلہ اسرائیل کی وضاحت
 ایرانی میڈیا کے دعوے (17 جون صبح تک):
ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایرو اسپیس فورس نے صبح 2 بجے تک تل ابیب اور حیفہ پر میزائل اور ڈرون حملہ کیا۔کہا گیا کہ دونوں شہروں میں سائرن بجے، شہریوں کو شہر چھوڑنے کی ہدایات جاری کی گئیں، اور ایرانی میڈیا کا بیان ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے تل ابیب کے نیوز چینلز کی عمارتیں خالی کرانے کی بھی دھمکی دی۔
 اسرائیلی جانب سے جو رپورٹ ہوئی ہے:
IDF نے گولان ہائٹس میں "چند" ایرانی ڈرون گرائے، جن کی اطلاع صبح کے وقت Liveblog میں دی گئی ۔سائرنز کے حوالے سے زیادہ سرکاری اطلاع نہیں، حالانکہ کچھ لرزاں ہونے کی خبریں ملیں۔کوئی تصدیق شدہ حملہ یا متاثر ہونے کا ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا، مثال کے طور پر نقصان یا ہلاکتوں کی تفصیل نہیں ملی۔
  تہران کی صورتحال
ایرانی سرکاری ٹی وی پر 16 جون کو اسرائیل کے بمباری کا حملہ ہوا، نشریات عارضی طور پر رکیں، مگر 17 جون کی صبح دو بجے تک اسرائیل کی کوئی جانب سے حملہ کی خبر نہیں ملی ۔
تہران میں اس دوران ایک سٹیٹ ٹی وی بلڈنگ پر کوئی حملہ نہیں ہوا جس کا بیرونی کوئی ثبوت ہو، البتہ 16 جون کی دھماکے کی وجہ سے کچھ وقت نشریات متاثر ہوئیں۔
  سفارتی اشارے اور ڈیپلوسی تعلقات
ایران نے بظاہر عربی ممالک (جیسے عمان، قطر، سعودی عرب) سے رابطہ کیا ہے تاکہ جنگ کو روکنے میں مدد ملے اور ڈپلومیسی کو موقع دیا جائے ۔ایرانی سپریم کاؤنسل نے 16–17 جون کی درمیانی رات کے لیے بیان دیا کہ “آج صبح اسرائیل کے لیے دن بنا دیں گے” — مگر صبح تک واقعہ سامنے نہیں آیا۔گو کہ لفظی حملے ہوئے، لیکن عملی طور پر ناپٹے حملے یا بڑے گراؤنڈ آپریشنز کی کوئی مستند اطلاع نہیں۔

 نتیجہ
ایرانی حکومت اپنے دعووں میں تاثر دیتی ہے کہ ایران نے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا، لیکن اسرائیل سے جو تصدیق ہے وہ محدود اور بنیادی ہے — مثلاً گولان میں چند ڈرون گرائے گئے۔
کوئی واضح سائرن یا بڑے نقصان کا ثبوت نہیں ملا، چاہے بعض ذرائع نے سائرنز کی بات کی ہو، مگر مستقل واقعات نہیں۔تہران میں کوئی اسرائیلی حملہ صبح 2 بجے تک رپورٹ نہیں ہوا؛ وہ 16 جون کی فائرنگ شاید ایران کی جانب سے غلط وقت یا تاثر کی وجہ سے منسوب کی گئی۔
ایران نے بیک وقت امن کے راستے اور ثالث عرب ممالک کے ذریعے مذاکرات کی راہ بھی کھولی، جو کہ تنازعے کی شدت کم کرنے کی واضح کوشش ہے۔