ڈاکٹر نصیر طاہر
آنکھ کھلتی ہے تو صرف دنیا دکھائی نہیں دیتی، زندگی کا مفہوم آشکار ہوتا ہے
کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ صبح آنکھ کھلنے کا مطلب کیا ہے؟
یہ صرف نیند سے بیدار ہونا نہیں؛ یہ کائنات سے دوبارہ متصل ہونا ہے۔ ماں کا چہرہ، بچے کی مسکراہٹ، کتاب کے الفاظ، آسمان کی وسعت، پھول کی نزاکت، سبزے کی تازگی، اپنے کسی عزیز کی آنکھوں میں جھلکتی محبت—یہ سب کچھ ہماری بصارت کے وسیلے سے ہمارے شعور کا حصہ بنتا ہے۔
انسانی جسم میں آنکھ بظاہر ایک چھوٹا سا عضو ہے، مگر اس کی ذمہ داری پوری کائنات کو ہمارے ادراک تک پہنچانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بصارت محض دیکھنے کی صلاحیت نہیں؛ یہ تعلیم، روزگار، خودمختاری، سماجی شرکت، انسانی وقار اور زندگی کے معیار سے براہِ راست وابستہ ہے۔
اسی عظیم نعمت کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے دنیا بھر میں ہر سال عالمی یومِ بصارت (World Sight Day) منایا جاتا ہے۔ 2026ء میں یہ دن 8 اکتوبر، بروز جمعرات کو منایا جائے گا۔ اس سال عالمی مہم کا پیغام اس امر کے گرد گھومتا ہے کہ آنکھوں کی صحت ہر انسان کی ترجیح بنے اور دنیا میں ہر شخص کو ایسی نگہداشتِ چشم میسر ہو جو قابلِ رسائی، دستیاب اور قابلِ استطاعت ہو۔
بطورِ ڈاکٹر، میں سمجھتا ہوں کہ یہ دن محض ایک کیلنڈر کی تاریخ نہیں، بلکہ ضمیر کی دستک ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس نعمت کے بغیر انسان دنیا کو مکمل طور پر محسوس نہیں کر سکتا، اس نعمت کی حفاظت کو ہماری ترجیحات میں کہاں مقام حاصل ہے؟
2.2 ارب انسان — ایک عدد نہیں، انسانی کہانیاں ہیں
عالمی سطح پر کم از کم 2.2 ارب افراد کسی نہ کسی درجے کی بصری کمزوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ان میں کم از کم ایک ارب ایسے افراد شامل ہیں جن کی بصری کمزوری کو روکا جا سکتا تھا یا جس کا مناسب علاج ابھی تک نہیں ہو سکا۔
یہ اعداد بظاہر اعداد و شمار ہیں، لیکن ایک ڈاکٹر کی نظر سے دیکھیے تو ان کے پیچھے کروڑوں انسانی داستانیں موجود ہیں۔
ان میں وہ بچہ بھی ہے جو کلاس روم میں بیٹھا بلیک بورڈ صاف نہیں دیکھ پاتا۔
وہ طالب علم بھی ہے جسے کتاب کے الفاظ دھندلے دکھائی دیتے ہیں۔
وہ مزدور بھی ہے جس کی روزی روٹی اس کی آنکھوں کی صحت سے وابستہ ہے۔
وہ بزرگ بھی ہے جس کی دنیا موتیا یا کسی دوسری بیماری کے باعث آہستہ آہستہ دھندلا رہی ہے۔
اور وہ ذیابیطس کا مریض بھی ہے جسے شاید ابھی یہ احساس تک نہیں کہ اس کی بیماری اس کی بینائی کے لیے خاموش خطرہ بن سکتی ہے۔
اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ بصارت کا مسئلہ صرف آنکھ کا مسئلہ نہیں؛ یہ انسان کی پوری زندگی کا مسئلہ ہے۔
خاموش بیماریاں اور ہماری بے خبری
آنکھوں کی طب کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ بعض سنگین بیماریاں ابتدا میں کوئی واضح شور پیدا نہیں کرتیں۔
مریض کو درد نہیں ہوتا، سرخی نہیں ہوتی، کبھی کبھی نظر بھی بظاہر ٹھیک محسوس ہوتی ہے، مگر بیماری اندر ہی اندر اپنا اثر مرتب کر رہی ہوتی ہے۔
گلوکوما اس کی ایک اہم مثال ہے۔ اسی طرح ذیابیطس سے وابستہ آنکھوں کی پیچیدگیاں بھی بعض اوقات خاموشی سے پیش رفت کرتی رہتی ہیں۔
یہاں ایک بنیادی طبی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے:
"نظر کا ٹھیک محسوس ہونا، آنکھ کے مکمل طور پر صحت مند ہونے کی ضمانت نہیں۔"
اسی لیے آنکھوں کا معائنہ صرف اس وقت نہیں ہونا چاہیے جب نظر کم ہو جائے۔ بعض اوقات بروقت معائنہ اس بیماری کو اس وقت پکڑ لیتا ہے جب مریض کو خود اس کی موجودگی کا ادراک بھی نہیں ہوتا۔
یہی preventive ophthalmology کی اصل روح ہے۔
بچوں کی آنکھیں — قوم کے مستقبل کا آئینہ
آج کا بچہ کل کا معمار ہے، لیکن اگر اس کے سامنے دنیا ہی دھندلی ہو تو اس کے خوابوں کی تعمیر کیسے مکمل ہوگی؟
بچوں کی بصارت کو معمولی مسئلہ سمجھنا ایک سنگین غفلت ہو سکتی ہے۔
اگر بچہ کتاب کو بہت قریب لا کر پڑھتا ہے، ٹی وی یا موبائل اسکرین کے قریب بیٹھتا ہے، بار بار آنکھیں ملتا ہے، سر درد کی شکایت کرتا ہے، آنکھیں سکیڑ کر دور کی چیزیں دیکھتا ہے یا کلاس روم میں بورڈ دیکھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے تو اسے محض عادت قرار دے کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ایک بروقت eye examination بعض اوقات بچے کے تعلیمی سفر کا رخ بدل سکتا ہے۔
ایک درست چشمہ صرف نظر نہیں سنوارتا، بعض اوقات بچے کا اعتماد بھی واپس لاتا ہے۔
یہاں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کی بصارت کو تعلیمی صحت کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔
ڈیجیٹل عہد اور آنکھوں کا نیا امتحان
ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ اسکرین کے اندر آباد ہے۔
موبائل فون، کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور دیگر ڈیجیٹل آلات نے تعلیم، کاروبار اور رابطے کو آسان بنایا ہے، مگر ان کا غیر متوازن استعمال آنکھوں کی تھکن اور دیگر بصری شکایات کو بڑھا سکتا ہے۔
مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں؛ مسئلہ غیر متوازن طرزِ استعمال ہے۔
ہمیں بچوں اور بڑوں دونوں میں اسکرین کے استعمال کے دوران مناسب وقفوں، مناسب فاصلہ، مناسب روشنی، درست posture اور مجموعی طور پر صحت مند بصری عادات کو فروغ دینا ہوگا۔
آنکھیں بھی آرام چاہتی ہیں۔
ہم موبائل کو چارج کرنا نہیں بھولتے، مگر اپنی آنکھوں کو آرام دینا بھول جاتے ہیں۔
ذیابیطس: جسم کی بیماری، آنکھوں کا امتحان
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے آنکھوں کی صحت پر خصوصی توجہ ناگزیر ہے۔
ایک خطرناک غلط فہمی یہ ہے کہ اگر ذیابیطس کے مریض کو ابھی صاف نظر آ رہا ہے تو اس کی آنکھ بھی محفوظ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ذیابیطس آنکھ کے حساس حصوں کو متاثر کر سکتی ہے اور بعض پیچیدگیاں ابتدائی مراحل میں نمایاں علامات کے بغیر بھی موجود ہو سکتی ہیں۔
اسی لیے ذیابیطس کے مریضوں کو اپنے معالج سے مشورے کے مطابق باقاعدہ آنکھوں کا معائنہ کروانا چاہیے۔
شوگر کو کنٹرول کرنا صرف خون کی رپورٹ بہتر کرنا نہیں؛ یہ مستقبل کی بصارت کی حفاظت بھی ہے۔
موتیا — دھندلے منظر کو قسمت نہ سمجھیں
بڑھتی عمر کے ساتھ موتیا ایک عام مسئلہ بن سکتا ہے، مگر اسے خاموشی سے برداشت کرنا ضروری نہیں۔
دھندلا پن، روشنی کے گرد چکاچوند، رات کے وقت دیکھنے میں دشواری اور روزمرہ سرگرمیوں میں بصارت کی وجہ سے رکاوٹ ایسی علامات ہیں جنہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
جدید چشم طب نے cataract surgery میں نمایاں ترقی کی ہے اور مناسب مریضوں میں علاج بصارت اور معیارِ زندگی دونوں میں قابلِ ذکر بہتری لا سکتا ہے۔
اس لیے ہر دھندلے منظر کو "عمر کا تقاضا" کہہ کر قبول کرنا ضروری نہیں۔
گلوکوما — خاموشی میں چھپا ہوا خطرہ
گلوکوما کا ذکر کرتے ہوئے ایک جملہ بار بار ذہن میں آتا ہے:
"جو بیماری خاموشی سے بصارت چھین سکتی ہے، اس کے خلاف ہماری پہلی ڈھال بروقت تشخیص ہے۔"
کچھ مریض اس وقت ڈاکٹر تک پہنچتے ہیں جب انہیں روزمرہ زندگی میں واضح مشکلات پیش آنا شروع ہو جاتی ہیں۔
ہمیں اس طرزِ فکر کو تبدیل کرنا ہوگا۔
خاندانی تاریخ، عمر اور دیگر طبی عوامل رکھنے والے افراد کو اپنے ماہرِ امراضِ چشم سے مشورہ کرتے ہوئے مناسب وقفوں سے معائنہ کروانا چاہیے۔
چشمہ کمزوری کی علامت نہیں، بصارت کی اصلاح کا وسیلہ ہے
ہمارے معاشرے میں آج بھی بعض لوگ چشمہ پہننے کو کمزوری یا بیماری سمجھتے ہیں۔
یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔
Refractive error کی صورت میں مناسب نمبر کا چشمہ ایک سادہ مگر انتہائی مؤثر ذریعہ ہے جو کسی شخص کی تعلیم، ملازمت، ڈرائیونگ، مطالعے اور روزمرہ زندگی میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔
لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔
چشمہ اندازے سے نہیں، مناسب معائنے کے بعد ہونا چاہیے۔
ایک ڈاکٹر کی نظر میں عالمی یومِ بصارت کا اصل پیغام
میرے نزدیک World Sight Day کا اصل پیغام صرف یہ نہیں کہ ہم ایک دن آنکھوں کی بات کریں۔
اصل پیغام یہ ہے کہ آنکھوں کی صحت کو صحتِ عامہ کا مستقل حصہ بنایا جائے۔
ہمیں ایسے نظامِ صحت کی ضرورت ہے جہاں شہری کو بروقت معائنہ، درست تشخیص، مناسب علاج، معیاری چشمہ اور ضرورت پڑنے پر جدید جراحی سہولت میسر ہو۔
آنکھوں کی صحت کو بنیادی صحت، ذیابیطس، عمر رسیدگی، بچوں کی صحت، تعلیم اور occupational health کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔
کیونکہ بصارت کا تحفظ کسی ایک ڈاکٹر، ایک ہسپتال یا ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں۔
یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
میری عوام سے مخلصانہ اپیل
بطورِ معالج میں اپنے قارئین سے چند گزارشات کرنا چاہوں گا:
اپنی آنکھوں کو معمولی نہ سمجھیں۔
بچوں کی بصارت کو نظرانداز نہ کریں۔
ذیابیطس کے مریض آنکھوں کے باقاعدہ معائنے کو اپنی صحت کا لازمی حصہ بنائیں۔
نظر میں اچانک کمی، شدید درد، روشنی کی غیر معمولی چمک، اچانک بہت سے سیاہ دھبے یا پردہ سا محسوس ہونے کی صورت میں فوری طبی مشورہ حاصل کریں۔
غیر مستند افراد کے مشورے پر آنکھوں میں دوا استعمال نہ کریں، خصوصاً ایسی ادویات جن میں steroid شامل ہو سکتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر:
آنکھوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کو بیماری کی علامت نہیں، صحت مندی کی علامت سمجھیں۔
ایک عہدِ بصارت
آئیے اس سال 8 اکتوبر کو صرف ایک عالمی دن نہ منائیں۔
اسے ایک عہد بنائیں۔
عہد کہ ہم اپنی آنکھوں کی حفاظت کریں گے۔
اپنے بچوں کی بصارت کا خیال رکھیں گے۔
اپنے بزرگوں کی بصری ضروریات کو سمجھیں گے۔
ذیابیطس کے مریضوں کو آنکھوں کے معائنے کی طرف متوجہ کریں گے۔
بروقت تشخیص کی اہمیت اجاگر کریں گے۔
اور معاشرے کے ان افراد تک بھی نگہداشتِ چشم پہنچانے کی کوشش کریں گے جو وسائل کی کمی کے باعث اس بنیادی طبی سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔
کیونکہ عالمی سطح پر بھی 2026ء کی World Sight Day مہم کا زور اسی اجتماعی عمل پر ہے—لوگ اپنی آنکھوں کی حفاظت کے لیے عہد کریں، اپنی کہانیاں سامنے لائیں اور ایسی eye care کے لیے آواز اٹھائیں جو سب کے لیے میسر ہو۔
اختتامیہ
آنکھ محض جسم کا ایک عضو نہیں۔
یہ یادوں کا آئینہ ہے۔
یہ خوابوں کا دریچہ ہے۔
یہ علم تک رسائی کا وسیلہ ہے۔
یہ انسان کے چہرے پر لکھی ہوئی محبت پڑھنے کی صلاحیت ہے۔
ایک بچے کے لیے آنکھ مستقبل کا راستہ ہے۔
ایک نوجوان کے لیے امکانات کی دنیا ہے۔
ایک بزرگ کے لیے ماضی کی محفوظ تصویریں ہیں۔
اور ایک ڈاکٹر کے لیے آنکھ انسانی جسم کی پیچیدہ ساخت، لطیف توازن اور حیرت انگیز حیاتیاتی حکمت کی ایک زندہ مثال ہے۔
اس لیے بصارت کی حفاظت صرف طب کا موضوع نہیں؛ یہ انسانی وقار کا سوال ہے۔
ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کرنی ہے جہاں کوئی انسان محض اس لیے اپنی بینائی سے محروم نہ ہو کہ اسے بروقت تشخیص، مناسب چشمہ یا ضروری علاج میسر نہ آ سکا۔
کیونکہ آنکھیں سلامت ہوں تو منظر باقی رہتے ہیں،
بصارت سلامت ہو تو خواب باقی رہتے ہیں،
اور خواب باقی ہوں تو زندگی کا سفر روشن رہتا ہے۔