وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے چھوٹے کسانوں کو آسان قرضوں اور جدید زرعی سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح بنایا جائے۔
یہ بات انہوں نے ایگری فنانسنگ اور زرعی منصوبہ بندی سے متعلق ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد چیمہ، رانا تنویر حسین، بلال اظہر کیانی، مشیر وزیراعظم محمد علی، وزرائے مملکت، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
چھوٹے کسانوں کو مرکزی حیثیت دینے کی ہدایت
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ 12 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر معیاری بیج، جدید زرعی آلات، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور پانی کے بہتر استعمال کی سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کا انحصار زرعی شعبے کی بہتری اور کسانوں کی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن پر ہے۔ اس مقصد کے لیے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا سکیں۔
قرض فراہمی اور صنعتی مشینری تک رسائی
وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے ذریعے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے چھوٹے پیمانے کی صنعتی مشینری تک کسانوں کی رسائی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کی کارکردگی اور کسانوں کو دیے جانے والے قرضوں کا بھی جائزہ لیا۔
جامع منصوبہ طلب
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ رواں ماہ کے اختتام تک ایک جامع منصوبہ تیار کر کے پیش کیا جائے، جس کے تحت کسانوں کو ایگری فنانسنگ کے شعبے میں جدید نظام کے تحت سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی اصلاحات کے عمل کو تیز کر رہی ہے اور آن فارم انڈسٹری، مصنوعی ذہانت اور زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے لیے کسانوں کی تربیت و معاونت بھی اصلاحاتی اقدامات کا حصہ ہونی چاہیے۔