ایران نے جی سیون ممالک کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں مداخلت پسندانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں میں اسرائیل کی براہِ راست مداخلت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق، حالیہ مظاہروں کو پرتشدد بنانے میں شامل دہشت گرد عناصر کو امریکی اور اسرائیلی معاونت حاصل تھی۔تہران میں جاری احتجاج اور پرتشدد واقعات کے بارے میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کو خط لکھا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ بیانات اور اعترافات "واضح شہادت" فراہم کرتے ہیں کہ مظاہروں میں اسرائیلی انٹیلی جنس آپریٹرز موجود تھے اور انہوں نے باہر سے مدد فراہم کی۔ایران نے کہا کہ مظاہرین کو فراہم کی جانے والی اسلحہ، فنڈنگ اور رہنمائی بیرونی طور پر فراہم کی گئی، اور یہ مداخلت ایران کے داخلی امور میں غیر قانونی اور جارحانہ مداخلت کے مترادف ہے۔
مزید برآں، ایرانی دفاعی حکام نے بھی دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے ہتھیاروں اور مالی امداد کے ذریعے دنگے منظم کیے، جس کے نتیجے میں مظاہرے زیادہ پرتشدد ہوئے۔ ایران نے اس بات پر زور دیا کہ انٹرنیشنل برادری کو اس مداخلت کی حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے اور ملک میں امن و استحکام کے لیے ایران اپنی کارروائی جاری رکھے گا۔