شوکت یوسفزئی: عمران خان کے خلاف فیصلہ آئین اور انصاف کی خلاف ورزی ہے

شوکت یوسفزئی: عمران خان کے خلاف فیصلہ آئین اور انصاف کی خلاف ورزی ہے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سنائی گئی سزاؤں کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ آئین، انصاف اور قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

فیصلے پر تنقید
شوکت یوسفزئی نے کہا:آج کا دن پاکستان کی عدالتی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔فیصلے سے حکومت کی بدنیتی عیاں ہوتی ہے اور ملک میں جاری سیاسی استحکام کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔
القادر ٹرسٹ بنانا کوئی ایسا جرم نہیں جس پر عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا دی جائے۔پوری قوم اس فیصلے سے مایوس ہوئی ہے، اور انشاءاللہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے مستقبل کے لائحہ عمل پر زور
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو سوچنا ہوگا کہ انسانی حقوق اور رول آف لاء کے لیے کون سا لائحہ عمل اپنانا ہے۔موجودہ حالات میں حکومت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔
حکومت پر الزامات
شوکت یوسفزئی نے الزام عائد کیا کہ:توشہ خانہ سے قیمتی گاڑیاں لے جانے والے اور منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک جائیدادیں بنانے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔جبکہ عمران خان، جنہوں نے ملک کی خدمت کی اور عوام کی آزادی کی جدوجہد کی، کو سزا دے دی گئی۔
پاکستان کی بدنامی کا خدشہ
انہوں نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی اور جگ ہنسائی ہوگی۔