مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ 3 بار فیصلہ مؤخر ہونے کے باوجود شکوک و شبہات کا سامنا کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ آج القادر کیس کا فیصلہ مزید مؤخر نہیں ہوگا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ "انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے" اور یہ کہ القادر ٹرسٹ کیس ایک جعلی مقدمہ ہے، جو ایک جعلی حکومت کے زیر اثر بنایا گیا ہے۔ بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ القادر ٹرسٹ میں پیسہ بیرونِ ملک سے آیا اور فلاحی منصوبے پر خرچ کیا گیا، تاہم بانی پی ٹی آئی یا بشریٰ بی بی کے اکاؤنٹس میں کوئی رقم منتقل نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف جعلی مقدمات کی حقیقت عدالتوں میں بے نقاب ہو رہی ہے، اور اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے ملک میں لاقانونیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔