گجرپورہ پولیس کی ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزی، خواتین ملزمان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ

گجرپورہ پولیس کی ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزی، خواتین ملزمان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ

معاملے کی تفصیلات:
گجرپورہ انویسٹیگیشن ونگ کی جانب سے اخلاقی ضابطوں اور تفتیشی ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے۔ چوری کے مقدمے میں گرفتار خواتین کو لیڈی اہلکاروں کے بغیر گرفتار کیا گیا اور انویسٹیگیشن ونگ کے مردوں کے کمرے میں دو دن تک رکھا گیا۔ خواتین ملزمان کو ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کرنے کی بجائے انویسٹیگیشن روم میں رکھا گیا، جہاں مرد اہلکار ان کے قریب بیٹھ کر سگریٹ پیتے رہے۔

فوٹیج سامنے آ گئی:
سٹی نیوز نیٹ ورک کو موصول ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین ملزمان کو مردوں کے انویسٹیگیشن روم میں رکھا گیا اور وہ چارپائی پر لیٹی ہوئی ہیں جبکہ مرد اہلکار پاس بیٹھے ہیں۔ یہ عمل پولیس کے اخلاقی ضابطوں اور تفتیش کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ایس ایس پی انویسٹیگیشن کا مؤقف:
ایس ایس پی انویسٹیگیشن محمد نوید نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "جب بھی خواتین سے تفتیش ہوتی ہے تو لیڈیز پولیس کی سربراہی میں کی جاتی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

متاثرہ خواتین کا ردعمل:
متاثرہ خواتین کی جانب سے ابھی تک کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی۔

عوامی ردعمل:
یہ واقعہ پولیس کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور خواتین کے حقوق کی پامالی کا عکاس ہے۔ عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کے لیے سوالات:
کیا لیڈی پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی میں خواتین کو گرفتار کرنا ایس او پیز کی خلاف ورزی نہیں؟خواتین کو ویمن پولیس اسٹیشن منتقل نہ کرنے کی کیا وجوہات تھیں؟انکوائری کمیٹی کے نتائج کب تک سامنے آئیں گے؟
یہ واقعہ نہ صرف پولیس کی پیشہ ورانہ خامیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ خواتین کے تحفظ کے لیے مزید سخت قوانین اور ان کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔