سیاست عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ

سلمان احمد قریشی

 سیاست معاشرتی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے جس کا مقصد عوام کے مسائل کا حل اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل ہے۔ یہ معاشرے کی بہتری کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے جہاں فیصلے کیے جاتے ہیں، قوانین بنائے جاتے ہیں، اور عوام کے مسائل کو ترجیح دی جاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، آج کل سیاست ذاتی مفادات، کرپشن، اور اقتدار کی ہوس کا شکار ہو چکی ہے، جس سے عوامی مسائل پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔سیاست کا اصل مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس میں ہر شخص کو مساوی حقوق اور سہولتیں میسر ہوں۔ صحت، تعلیم، روزگار، اور انصاف کی فراہمی جیسے بنیادی مسائل سیاست کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ عوام کے لیے وہ پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جہاں ان کی آواز سنی جاتی ہے اور ان کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، سیاست کے اصل مقاصد دھندلا گئے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سیاست کو اس کی اصل روح کے ساتھ دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ عوام کی خدمت کا حقیقی ذریعہ بن سکے۔
 دنیا کے مختلف ماہر سیاست اور دانشوروں نے سیاست کے بارے میں ایسے اقوال پیش کیے ہیں جو ہمیں سیاست کے اصل مقصد کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیںارسطو کا یہ قول سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے کہ انسانی معاشرہ سیاست کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔قائداعظم محمد علی جناح کا  قول ہے''سیاست عوامی خدمت کا نام ہے، نہ کہ ذاتی مفادات کا ذریعہ۔''قائداعظم کے اس قول سے واضح ہوتا ہے کہ سیاست کا اصل مقصد عوام کی خدمت ہونا چاہیے۔سیاست کو عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، جیسا کہ ماہر سیاست کے اقوال ہمیں سکھاتے ہیں۔ ایک مضبوط، اصولی، اور عوام دوست سیاست ہی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کی ضمانت دے سکتی ہے۔ ایک اچھے سیاستدان کی پہچان یہ ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو سمجھتا ہو اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے۔ مثال کے طور پر، پانی کی قلت، بیروزگاری، صحت کی ناقص سہولیات، اور مہنگائی جیسے مسائل صرف اس وقت حل ہو سکتے ہیں جب سیاستدان ان مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں اور ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر عوامی فلاح کو اپنا مقصد بنائیں۔
 جماعت اسلامی اپنی منظم سٹریٹ پاور اور تنظیمی ڈھانچہ کی بدولت احتجاج اور تحریک چلانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے عروج کے زمانے میں بھٹو کی سب سے بڑی حریف جماعت تھی، جبکہ کراچی میں آج بھی جماعت اسلامی پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ایک کھلا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ حکومتی جماعت نہ ہوتے ہوئے بھی میئر کراچی کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے بھرپور کامیابی حاصل کی، اور حافظ نعیم الرحمن ملکی سیاست میں ایک توانا آواز بن کر ابھرے۔پاکستان میں جماعت اسلامی کے انٹرا پارٹی الیکشن جمہوری اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں، اور جماعت کی سیاست شخصیات سے بالاتر ایک اصول اور ضابطے کے تحت چلتی ہے۔ جماعت کے مخالفین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ جماعت عوامی مسائل پر عام آدمی کی بھرپور ترجمانی کرتی ہے۔مہنگائی، بے روزگاری، اور توانائی بحران جیسے مسائل پر جماعت اسلامی کی آواز سب سے زیادہ گونجتی ہے۔ آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں اور ان کے نتیجے میں عوام پر ڈالے گئے معاشی بوجھ کے خلاف جماعت کی مزاحمت قابل ستائش ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی حکومتوں نے ان معاہدوں کی منظوری دے کر عوام کے لیے یہ مشکلات پیدا کیں۔آج ملک میں مہنگائی کا ایسا طوفان برپا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ شہباز حکومت کی جانب سے اعلانات کی حد تک مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی ان دعوؤں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بڑھتی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے، اور اس صورتحال میں جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو عوامی مسائل پر مستقل احتجاج کر رہی ہے۔
 پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، اور مسلم لیگ (ن) عوامی مسائل پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ پیپلز پارٹی بیانات تک محدود ہے اور سسٹم کے تحفظ کو ترجیح دیتی ہے۔ تحریک انصاف کی سیاست عمران خان کی رہائی اور ان کے سیاسی ایجنڈے کے گرد گھومتی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) مہنگائی کے خاتمے کے بجائے اقتدار کے کھیل میں مصروف ہے۔سیاسی منظرنامے میں عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے اقتدار کی رسہ کشی جاری ہے۔ اس صورتحال میں جماعت اسلامی کی مزاحمتی سیاست نہ صرف عوامی امنگوں کی عکاس ہے بلکہ یہ ایک امید کی کرن بھی ہے کہ کوئی جماعت عوام کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔پاکستان میں موجودہ سیاسی حالات نے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ اقتدار اور مفادات کی سیاست کے بیچ عوام کی آواز کہیں کھو گئی ہے۔ ایسے میں جماعت اسلامی کا عوامی مسائل کے حق میں احتجاج اور سیاسی سرگرمیاں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جماعت اسلامی آج بھی ان اصولوں پر قائم ہے جن پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اگرچہ یہ جماعت اقتدار کے کھیل سے دور ہے، لیکن عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کی کوششوں میں سب سے آگے ہے۔ سیاست میں ایسی جماعت کی موجودگی عوام کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔
 سیاست کو عوامی خدمت اور مسائل کے حل کا ذریعہ ہونا چاہیے نہ کہ ذاتی مفادات اور اقتدار کی لڑائی کا۔ ایک مضبوط اور عوام دوست سیاسی نظام ہی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ سیاستدانوں اور عوام دونوں کو سیاست کے حقیقی مقصد کو اپنانا ہوگا تاکہ ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔عوام کو بھی سیاست کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہونا چاہیے۔ ووٹ کا حق صرف ایک اختیار نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایسے نمائندے منتخب کرنے چاہییں جو ایماندار، اہل، اور عوام کے مسائل حل کرنے کے جذبے سے سرشار ہوں۔۔ عوام اور سیاستدان دونوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا تاکہ سیاست اپنے اصل مقصد کی طرف واپس آ سکے۔یہی وقت ہے کہ ہم سیاست کو صحیح معنوں میں عوامی خدمت کے لیے استعمال کریں اور اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔