فریضہ قربانی جہادکی تربیت کااھم ذریعہ

فریضہ قربانی جہادکی تربیت کااھم ذریعہ

ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری

قربانی تسلیم و رضا کا حسین عنوان اور عبدیت کا عظیم مظہر ہے‘ایمان کے نور سے منور اور اسلام کے مقدس نظام سے جڑے ہر ایک خوش نصیب مسلمان کی حیات مستعار کے ہرہر موڑ پر قربانی مطلوب ہے
 کبھی وقت کی قربانی ،کبھی مال کی قربانی، کبھی جان کی قربانی ،کبھی نیند کی قربانی اور کبھی اولاد کی قربانی گویا کہ انسان کی تمام کی تمام زندگی قربانیوں سے ہی لبریز ہے 
عقل انسانی جب فہم و فراست کے نور سے مالا مال ہو کر معرفت خداوندی کے سمندر کی گہرائیوں میں غوطہ زن  ہونے کا شرف پاتی ہے تو پھر بندہ و خدا، عبد اورمعبود کیعالمگیر رشتے میں ایسے لازوال تعلق کا نظارہ پیش کرتی ہے کہ عبد خدا ہر ایک لمحہ و گھڑی اپنے معبود حقیقی کے حضور سر تسلیم خم کرنے میں مگن رہتا ہے،سامنے تلوار ہو تو لڑ جانا اور اگ ہو تو کود جانا
 جذبہ قربانی ایسا بیمثال  نشہ ہے جس کی لذت کی سرمستی اس قدر عمدہ ہوتی ہے کہ بندہ خدا اولاد جیسی متاع عزیز بھی راہ خدا میں لٹا دینے میں پس و پیش نہیں کرتا 
جذبہ قربانی سے عزیمت و استقامت کی لازوال داستان ترتیب پاتی ہے، جذبہ قربانی ہی محبوب حقیقی کی سچی محبت کی حسین و عظیم علامت ہے
 اسی لیے تو یہ کام ذات خدا کے علاوہ کسی اور کے نام پر ہرگز جائز نہیں۔اسلام تو سارے کا سارا خود سپردگی سے عبارت ہے۔ جبھی تو تعلیمات اسلام اور اس کیعالمگیر احکام میں قربانی کا مفہوم ھرطرف حسن بکھیر دیتا ہے،
نماز کے لیینیند و ارام اور راحت کی قربانی،زکو? و صدقات میں  محنت و مشقت  سے کمائے مال کی قربانی، روزے میں بھوک پیاس کی قربانی نمایاں دیکھائی دیتی ہے ،حج، مال وقت اور ارام وسکون کی قربانی سے عبارت ہے جبکہ جہاد راہ خدا میں جان و مال کی قربانی کا منظر پیش کرتا ہے
 یہ تمام قربانیاں دراصل جان و مال جیسی نعمتوں سے نوازنے والے خالق و مالک رازق و مختار ،پروردگارسے قرب کا ذریعہ ھیں
  دراصل قربانی ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے سامنے ہم اپنی جملہ خواہشات سمیت تمام جذبات و احساسات قربان کر دیں
کیونکہ جذبہ قربانی انسان کو زندگی کے ہر میدان میں فتح و نصرت سے سرفراز کرتاھے،اور محض جلب منفعت کا حیوانی جذبہء￿  کمزور کے مقابل طاقت و قوت بخشتا ہے، میدان جنگ میں جہاں قدم قدم پر مجاہدوں کی سخت کوشیاں لبیک کہتی ہیں ،جہاں خاک و خون میں لتھڑے وجود زخمیوں کی اہ و بقا میدان کار زار میں پہاڑوں ،پتھروں ،کنکروں اور صحراؤں میں کپکپاتے بدن جلوہ یار کیلئے ٹڑپ رھیھوتے ھیں لگتا ہے وہاں اس نعمت سے محروم شخص کا گزرنہیں ہوا تبھی توبزدلی کی تصویر بناپھرتاھے،
جس کے جسم میں قربانی کی روح موجود ہو میدان جہادکے زخمیوں کو سنبھالنا، گرتوں کو اٹھانا اس کے دل میں اخلاص اور ایثار جیسی نعمت ضرور جلوہ گر ھوتی ہے،دشمنان دین و غداران ختم نبوت کا محاسبہ وہی مردمجاھد کر سکتا ہے جس کی زندگی میں کبھی خاک و خون کا منظر انکھوں سے گزرا ہو،
 جس نے کبھی کسی جانور کے گلے پر چھری تک نہ پھیری ہو جو اپنے رب کے حکم پر محض اسی کے نام پر جانور ذبح کرنے سے ڈرتا ہو اس سے جہاد کرنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے!  دین اسلام نے سال میں ایک بار عید الاضحی کے حسین بابرکت موقع پر قربانی کرنے کا حکم دیا تاکہ ظاہری طور پر جانور کا گلا کاٹنے سے مسلمان کے اندر جرات و ولولہ اور خا ک و خون سے مناسبت پیدا ہو، باطنی طور پر اسے پیسہ خرچ کرنے غرباء￿  ومساکین کو قربانی کے گوشت کے ذریعے خاطر تواضع کرنے سے اخلاص و ایثار کی عادت نصیب ہو،
 دین مصطفی کا ہر ایک فرد فطرتا سپاہی ہوتا ہے اور وہ اسے ذبیحہ قربانی کے ذریعے ہر سال جہاد کی تربیت بخشتا ہے، جانوروں کی قربانی کے ذریعے اسلام اپنے فرزندوں کو سمجھاتا ہے کہ جس طرح اللہ کی رضا کے لیے تم اج اس جانور کا خون بہا رہے ہو کل اسی طرح اپنے پروردگار خالق و مالک کے نام کی کی سربلندی کے لیے تمہیں اپنا تن من دھن اپنے رب کے لیے پیش کرنا ہے
اللہ رب العزت بطفیل تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں اخلاص وللھیت کی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے اور اپنیعطا کردہ رزق سے اس کی بارگاہ میں اس  ھدیہ قربانی کو وہ شرف قبولیت عطا فرمائے
بدقسمتی سیامت مسلمہ جس جذبہ ایمانی اور غیرت ملی  سے محروم ھورھی اللہ پھراسیسر بلند و سرفراز فرمائے،  برادر اسلامی ملک فلسطین  جہاں بلاشبہ لاکھوں ذبح ہو چکے اور لاکھوں مستقل معذورھوگئے اور لاکھوں ھی مسلمان بیگھر ہو گئے، سرزمین انبیاء￿  کومکمل اجاڑدیاگیامگربزدل  امت مغربی مشروبات سے اپنی پیاس بجھانیاور مغربی پروڈکٹس سے اپنے لئے سامان تسکین ڈھونڈ رھی ھے 
اس عظیم موقع پر ہمیں اپنوں سے چاھت و محبت اور دشمنان دین کی طرف سے ھونے والی تمام سازشوں  سے اپنی نسلوں کو اگاہ کرنا ہے ،دجالی قوتوں نے عرب کی طاقت  وقوت کو سید صدام حسین ،کرنل معمر قذافی اور سید محمد مرسی ایسے بہادر لیڈرز کو اپنوں کے ہاتھوں قتل کروا کر اپنے اہداف کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں سلاطین عرب، شراب و زنا بدکاری و عیاشی کی بدولت غیرت ایمانی گروی رکھ چکے،ٹرمپ جیسے اسلام دشمن کا اپنی بیٹیوں کے ذریعے استقبال کر کے اپنی غیرت وحمیت کا جنازہ نکال چکے ، چار چار سو ملین ڈالرز کے لگڑری طیارے فلسطینی مظلوموں کیسفاک قاتل  کو تحفتا پیش کریہودنوازی اور نصاری دوستی کااعلان کرکے قرآن وصاحب قرآن کیکامل فرامین ( اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو دوست مت بناؤ وہ صرف آپس میں ایک دوسرے کے دوست ھیں اورتم میں کوئی ان سے دوستی رکھیگا تووہ انھیں میں سیھے بیشک اللہ ظالموں کو ھدایت نھیں دیتا .سورہ المائدہ 51)سے بغاوت کرنے کے ساتھ ساتھ غزہ کے مظلوم مسلمان بچوں ،مردوں اور عورتوں کیکٹے جسموں جھلسے بدنوں  سمیت کھلے اسمان تلے بیٹھی بییارومددگار چیختی چلاتی بہنوں ،بیٹیوں اور سسکتی ،روتی ماؤں کے زخموں پر نمک پاشی کرنیمیں مصروف ھیں ،اللہ کریم امت مسلمہ کو اس مقدس دن کی بدولت پھرسے جذبہ جرات، غیرت ایمانی کے ساتھ اپنی اقدار و روایات کا صحیح حامل ومحافظ بنائے آمین