قیدی رہا‘2جوڈیشل کمیشن بنائیں(پی ٹی آئی )7روزمیں مطالبات کا جواب دینگے حکومتی کمیٹی

حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ایک گھنٹہ 40 منٹ جاری رہا، صدارت ایاز صادق نے کی‘ پی ٹی آئی نے تحریری طور پر اپنے مطالبات کا مسودہ پیش کر دیا
چارٹر آف ڈیمانڈ پرعلی امین کے علاوہ تمام ارکان کے دستخط ‘ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے ، اپوزیشن کا بانی پی ٹی آئی سے ایک اور ملاقات  کا مطالبہ منظور کرلیا: ایاز صادق 

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف  کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور میں پی ٹی آئی نے 2 انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کر دیا۔حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ایک گھنٹہ 40 منٹ جاری رہا، اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی ‘چارٹر آف ڈیمانڈ 2 نکات اور 3 صفحات پر مشتمل ہے، عمر ایوب نے تحریری مطالبات کا ڈرافٹ سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے رکھا، اپوزیشن لیڈر نے تحریری مطالبات کمیٹی اجلاس میں پڑھ کر بھی سنائے۔
متن کے مطابق تحریک انصاف کا حکومت سے کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا، اس کے علاوہ اس میں کہا گیا کہ حکومت دو الگ الگ کمیشن بنائے،دونوں کمیشن چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے 3 حاضر سروس ججز پر مشتمل ہوں گے، حکومت 7 روز کے اندر کمیشن قائم کرے، دونوں کمیشن کی کاروائی عام لوگوں اور میڈیا کے لیے اوپن رکھی جائے۔ 9 مئی کمیشن تحقیقات کرے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے حالات کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کمیشن گرفتاری کے طریقہ کار کی قانونی حیثیت اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں رینجرز اور پولیس کے داخلے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرے۔کمیشن عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پیش آنے والے واقعات خاص طور پر ان حالات کی تحقیقات جن میں افراد کے گروپس حساس مقامات تک پہنچے، کمیشن حساس مقامات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگز کا جائزہ لے، کمیشن اگر سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں تو اس کی عدم دستیابی کی وجوہات کا تعین کرے۔  سپیکر  ایاز صادق نے   میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے  کہا   اپوزیشن نے ڈیمانڈ کی ہے   بانی پی ٹی آئی سے ایک اور ملاقات  کرائی جائے۔ اس مطالبے کو حکومت نے تسلیم کرلیا ہے ۔  انہوں نے کہا میں نے خود و اپوزیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ چارٹر آف اکانومی اور دہشت گردی کی خلاف متحد ہونا چاہیے ۔ یہ پورے پاکستان کی عوام کا مسئلہ ہے اس پر کمیٹیاں بھی  تشکیل دی جائیں ۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے  مشترکہ اعلامیہ پڑھ کے سناتے ہوے کہا کہ طے پایا ہے کہ حکومت 7 ورکنگ دنوں میں اپوزیشن کو تحریری جواب پیش کرے گی