وزیر اعلی پنجاب کی شاباشی کے منتظر ڈاکٹر

ڈاکٹر جاوید 
پاکستان میں آٹھ کروڑ افراد نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ہر چار میں سے ایک نوجوان اور ہر پانچ میں سے ایک بچہ ذہنی دباؤ میں مبتلا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے نہ کوء واضح لائحہ عمل ہے اور نہ ہی آبادی کے لحاظ سے ڈاکٹروں کی مطلوبہ تعداد میسر ہے۔میں اپنے دوستوں کے ساتھ ناشتے کی ایک بیٹھک پر اس بات کا رونا رو رہا تھا کہ آنے والے سالوں میں شعبہ طب کے جو حالات چل رہے ہیں۔بچے میڈیکل کی تعلیم سے کنارہ کشی کر لیں گے۔اس سے ملتی جلتی ایک خبر کچھ دن پہلے ہی آ چکی ہے کہ اس سال پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں ایم بی بی ایس کی چار سو سیٹیں خالی رہ گئی ہیں۔ایسا اس لئے بھی ہوا ہے کہ ڈاکٹروں کے لئے نوکریاں ہی نہیں ہیں۔
آجکل نوجوان ڈاکٹرز ڈیڈھ ، ڈیڈھ کروڑ لگا کر یا تو بیروزگار ہیں یا پھر کسی عطاء کے کلینک پر بیٹھ کر روزی روٹی کما رہے ہیں۔
ان دگرگوں حالات کا نوحا ہر جگہ ہی پڑھا جا رہا ہے۔اوپر سے جو ڈاکٹر بیچارے سرکاری ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں۔ان کو روزانہ کی بنیاد پر بیسیوں قسم کی ٹیمیں دن رات آ کر چیک کر رہی ہیں بلکہ تذلیل کر کے یہ سبق پڑھاتی ہیں کہ تسی ہور بنو ڈاکٹر ؟
میڈیکل پروفیشن کے اس ناگفتہ بہ صورت حال اور چھاپوں پے دے چھاپہ کی چلنے والی آندھی پر چند احباب نے میری اچھی خاصی کلاس لگاء کہ تم دن رات سپر سی ایم کے راگ الاپتے ہو ، ان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہو۔تم ان کے نالج میں کیوں نہیں لاتے کہ وہ سرکاری بابووں کے بجائے اپنے کسی سیاسی آدمی ، وزیر ، مشیر یا کسی بھی نیوٹرل آدمی سے انفارمیشن لیں کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹر کن مشکلات کا شکار ہیں۔خیر سے دوا نام کی کوئی چیز ہسپتال میں سرے سے ہے ہی نہیں ، اگر دواء موجود ہے تو اثر نہیں کرتی ہے ، اگر کسی مردود ڈاکٹر نے اس حوالے سے شکایت کی ، اس کا بوریا بستر گول کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائی جائے گی۔شعبہ طب کے اس زوال پر ساتھیوں نے میری درگت بنائی کہ تم نے جتنا ن لیگی حکومت کو سپورٹ کیا ہے ، تم سے ایک دن پوچھ ضرور ہو گی۔ایک چاہنے والے نے تو حد ہی کردی۔کہنے لگا۔
دو دن پہلے تمہاری فیورٹ وزیراعلی پنجاب میڈم مریم نواز نے چلڈرن ہسپتال میں ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان سے خطاب کیا۔
وہ بیچارے پورے پنجاب سے چلڈرن ہسپتال کے آڈیٹوریم میں صبح 9 بجے آکر بیٹھ گئے ، وہاں نہ پانی کا انتظام اور نہ ہی ہال سے باہر جانے کی اجازت ، تقریب کا آغاز دن 12 بجے ہوا۔اس اجلاس میں محترمہ مریم نواز نے ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان سمیت عملے کو چور ڈکلئیر کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔میں نے اپنے دوست سے کہا۔یار وزیراعلی پنجاب کا کہنے کا مقصد یہ تھا کہ چند گندے انڈے پورے ماحول کو خراب کر دیتے ہیں ، جس کا نزلہ پورے شعبہ طب پر گرتا ہے۔میں نے اپنے دوست سے یہ بھی کہا  ڈئیر مانا کہ ڈاکٹروں ہی کی بدولت ہم اس معاشرے میں تندرست و توانا پھر رہے ہیں مگر یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کچھ ڈاکٹروں نے ہڈ حرامی میں پی ایچ ڈی کی ہوتی ہے ، ایسے بدبودار لوگ واقعی طب کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔

ان بادشاہ لوگوں بارے دراصل وزیراعلی نے گفتگو کی ہے۔ناشتے پر مدعو بیرون ملک سے آئے میرے ایک کلاس فیلو نے مجھ سے کہا۔
آپ جناب ایم ایس ایف قائد اعظم میڈیکل کالج بہاولپور کے صدر رہے ہیں۔آپ کی تمام ہمدردیاں ن لیگی حکومت کے ساتھ ہی رہی ہیں اور رہیں گی۔خدا کے لئے ن لیگ کے مخلص لوگوں کے کان میں سرگوشی ہی کر دو کہ سرکاری کارندے بی بی صاحبہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پارٹی کی لٹیا ڈبونے میں پیش پیش ہیں۔ان سرکاری ارسطووں کے بقول تمام ہسپتالوں میں سوء سے لیکر تمام مشینری بالکل فعال ہے ، دوائیوں کی کمی کی بات کرنا ، سازش کے زمرے میں آئے گا ، ادویات وافر مقدار میں موجود ہیں حالانکہ کہانی اس کے برعکس ہے۔
ڈاکٹروں کا زیادہ وقت کمپیوٹر انٹریز پر گزرتا ہے اور مریضوں کا فزیکلی معائنہ وہ کر نہیں پا رہے ہیں ، اوپر سے پیپر لس کام کیوجہ سے ٹول پلازہ پر دی جانے والی چٹ کیطرح چھوٹی پرچی پر بھلا ڈاکٹر کیسے کچھ لکھ سکتا ہے ؟اور تو اور ایکسرے ، سی ٹی سکین اور ایم آر آئی کی رپورٹ بھی موبائل فون کے ذریعے ہی ڈاکٹروں تک پہنچتی ہے ، جس کا استعمال سختی سے منع ہے اور پھر ڈاکٹروں کے ساتھ باڈی کیم لگانے کے ساتھ ہسپتالوں کو سیف سیٹی کیمروں سے مانیٹر کرنے کا انتظام بھی ہو چکا ہے۔اس ساری ڈرل میں ڈاکٹروں کا گلہ یہ ہے کہ ہم سٹیک ھولڈرز سے مشاورت کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا گیا ہے۔یہاں ہر بندہ ڈاکٹروں کو معاشرے کا سب سے برا شخص قرار دینے پر تلا ہوا ہے۔ڈاکٹر کہتے نہیں تھکتے ہیں کہ مریض علاج بھی ہم بدبختوں سے کراتے ہیں اور ولن بھی ہمیں قرار دیا جاتا ہے۔میرے کالج فیلوز نے مجھ سے کہا کہ یار آپکی سی ایم صاحبہ کو شاید کسی نے بتایا نہیں ہے  ہسپتال میں ہزاروں سرجریز کسی بیوروکریٹ نے نہیں کی ، قسمت کے مارے ڈاکٹروں نے ہی کی ہیں۔ان کو شاباش دینے میں بل آ جائے کیا ؟ان کو سر آنکھوں پر بٹھانے سے جرمانہ ہو جائے گا کیا ؟ یا ڈاکٹروں کو اپنی ٹیم کا حصہ قرار دینے پر سب کچھ چھین لیا جائے گا ؟میرے عزیز دوستوں کے بقول کیا ہی اچھا ہوتا کہ جس طرح وزیراعلی صاحبہ نے لاہوریوں کے چہروں پر 23 سال بعد  خوشیاں لوٹائیں ،  بسنت کے کامیاب انعقاد پر وزراء￿  و سیکریٹری صاحبان اور پولیس کے اعلی افسران اور اپنی لازوال ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔اسی طرح وہ ڈاکٹرز کمیونٹی کو شاباشی ( جس کے عرصہ دارز سے وہ منتظر ہیں ) دیتے ہوئے دل سے کہتی ، آپ میرا ہراول دستہ ہیں ، آپ ہر عید ، شب برات ، بسنت ، آفت میں کچھ کھائے پئے، آرام کئے بغیر 36 ، 36 گھنٹے نان سٹاپ ڈیوٹی کر کے ہمارا نام روشن کرتے ہیں۔ہم آپ جیسے باکمال ، لاجواب لوگوں کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ہم بھی ان شا اللہ مسیحائی  شعبے کی لاج رکھیں گے۔