ڈاکٹر جاوید اقبال
کسی اللہ والے نے کیا خوب کہا ہے
" خالق کی عبادت میں خضوع نہ ہونے سے کمی رہ جاتی ہے لیکن مخلوق کی خدمت جس سے بیماروں ، مفلسوں ،اسیران بے نوا اور مفلوک الحال بیوگان کو فائدہ پہنچے ، کبھی رد نہیں ہوتی "
میرا یہ ماننا ہے بلکہ اس بات پر کامل یقین ہے کہ مخلوق کی خدمت قبول اور مقبول عبادت ہے اور مسیحاء شعبے سے منسلک افراد تو جنت کے امین ہیں جو تکلیف میں مبتلا شخص کی تکلیف کو دور کر کے اپنے لئے راحت کا سامان پیدا کرتے ہیں.
اپنے ہاں مسیحاوں کو یہ راحت بڑی مشکل سے میسر آتی ہے۔
پیارے دیس میں کم تنخواہ کے ساتھ اووربرڈنڈ ڈاکٹر روزانہ سو سے دو سو مریض اکیلا خندہ پیشانی سے چیک کرتا ہے۔
اس معصوم کو قصاء ، کمیشن خور اور نجانے کن کن ناموں سے پکارا جاتا ہے۔
ڈاکٹر بیچارے درد بھری آواز میں بتاتے ہیں کہ بعض اوقات تو مریضوں کا تلخ رویہ دل چھلنی کر دیتا ہے۔
ہمارے خوشبو دار معاشرے کی یہ سوغات ہے۔مریض ہمیشہ ہی ہوا کے گھوڑے پر سوار اسپتال لینڈ کرتے ہی ڈاکٹر کے گل پڑ جاتا ہے۔اسکی ایک ہی گردان ہوتی ہے۔وہ سب کام چھوڑ کر ایمرجنسی میں آیا ہے۔اسے جلد از جلد چیک کر کے دوا اسپتال سے ہی دی جائے اور ساتھ ہی آنے جانے کا کرایہ بھی دیا جائے۔
اس ڈرل میں ذرا سی بھی دیر کو ڈاکٹروں کی نااہلی ، بد انتظامی ، بداخلاقی تصور کیا جائے گا۔
اگر لگے ہاتھوں وزیر صحت یا وزیر اعلی اسپتال کے دورہ پر ہوں۔مریض شکایات کے انبار لگا دیں گے۔
او جی!
مر گئے ، لٹ گئے ، کوء پوچھنے والا نہیں ہے
بالکل ایسا کچھ میو اسپتال اور جناح اسپتال میں ہوا جہاں سی ایم صاحبہ کے سامنے مریضوں نے ڈاکٹروں کو ولن ثابت کرنے میں ایک منٹ لگایا حالانکہ ڈاکٹر بیچارے میٹرک ، ایف ایس سی ، انٹری ٹیسٹ ، ایم بی بی ایس ، ایف سی پی ایس کرنے پر میڈیکل آفیسر بھرتی ہوتے ہیں۔
سیٹ خالی ہو تو سنئیر رجسٹرار بن کر کھجل ہوتے ہیں ، کوء پانچ سات سال کے بعد اسٹنٹ پروفیسر ، ایسوسی ایٹ پروفیسر کا پل صراط عبور کرنے کے بعد پروفیسر کی کرسی پر پہنچتے ہیں۔اس لمبی مسافت میں سٹریس کا لیول ناقابل بیان ہے۔
یہاں سوال یہ ہے ؟
اس کٹھن سفر کے بعد اگر کسی سنئیر ڈاکٹر کی عزت نفس کا جنازہ بیچ بازار نکالا جائے گا تو پھر اس بدقسمت ڈاکٹر کی حالت کیا ہو گی ؟
اس فعل کی کسی بھی طور تعریف نہیں کی جائے گی بلکہ کام کرنے والوں میں بددلی اور مایوسی کی فضا قائم ہو گی۔
اس حوالہ سے مجھے کنگ آف ہیلتھ رپورٹنگ سنئیر صحافی و اینکر برادرم زاھد چوہدری کی وہ بات یاد آ گء کہ بلند پایہ عوامی لیڈر کی اپروچ کیا ہوتی ہے ؟
چوہدری صاحب کے بقول کء سال پہلے لاہور میں ڈینگی مچھر پورے جوبن سے پھن پھلائے تباہی کی داستانیں رقم کر رہا تھا۔بدبخت بخار بہت سے انسانوں کو نگل چکا تھا۔
اس ناگفتہ بہ صورت حال پر جناب میاں نواز شریف میو اسپتال مریضوں کی عیادت کرنے ڈینگی وارڈ آئے۔میاں صاحب نے وہاں پر موجود مریضوں کو حوصلہ دیا اور دن رات ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹروں کو ناصرف شاباش دی بلکہ ڈاکٹروں کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے۔
خاکسار نے میاں نواز شریف کے ڈاکٹروں سے شائستہ انداز میں گفتگو کا آج کے دور سے موازنہ کیا تو ایک چیز کا واضح فرق نظر آیا کہ میاں نواز شریف بیوروکریسی ایسے جادوگروں کی جادوائی باتوں میں نہیں آتے تھے۔
اس زمانے میں نہ وائے ڈی اے تھی اور نہ ہی ملازمین کی کوء اور یونین جن کا مشن آئے روز ہڑتال کرنے سے عبارت ہے۔
راقم نے ایسی ہی ہڑتال چند دن پہلے ٹی وی پر دیکھی۔
گرینڈ ہیلتھ الائینس کے ہزاروں سرکاری ملازمین بشمول ڈاکٹر ، نرسز ، پیرامیڈیکل سٹاف سراپا احتجاج تھے۔
ان کی محکمہ صحت کے دفتر کا دروازہ توڑ کر شدید نعرے بازی بنیادی مراکز صحت ، رورل ہیلتھ سینٹرز و اسپتالوں کو آوٹ سورس کرنے بارے تھی۔
ذرائع اسے آء ایم ایف کا دباؤ تو کچھ لوگ اسے افسر شاہی کا گورگھ دھندہ قرار دے رہے ہیں۔
معلوم یہ بھی ہوا ہے کہ سیاسی لوگ جن کا اوڑھنا بچھونا عوام سے منسلک ہے۔
وہ بیوروکریسی کے اس اجلت بھرے ، نامعقول فیصلے سے ناخوش دیکھاء دیتے ہیں۔
یہ ناچیز بھی حیران ہے کہ جہاں وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے ایک سال کی قلیل مدت میں ریکارڈ کام کر کے پنجاب کی کایہ پلٹ کر رکھ دی ہے وہاں سرکاری بابوئوں نے گزشتہ نگران حکومت کے فیصلوں کی توثیق کر کے ن لیگ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
غور طلب بات تو یہ ہے کہ پچھلے 64 سال سے اچھے بھلے چلتے ہوئے داتا دربار اسپتال کو محکمہ اوقاف سے لیکر محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے حوالے کرنے اور رننگ مناواں اسپتال کو کینسر اسپتال میں بدلنا سمجھ سے بالاتر ہے۔اس سے لاکھوں مریضوں کا جو نقصان ہوا ہے۔اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
اس بابت میری سپر سی ایم سے مودبانہ گزارش تھی کہ بی ایچ یوز ، آر ایچ سی اور اسپتالوں کو آوٹ سورس کرنے کے فیصلے پر نظرثانی فرمائیں اور
داتا دربار اسپتال لاہور کو واپس محکمہ اوقاف کو سونپ کر حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ کے نام کی لاج رکھیں اور مناواں اسپتال کو اس کی پہلے والی پوزیشن پر واپس لا کر امر ہو جائیں اور خدا کے لئے اپنے سیاسی مشیروں ، ایم پی ایز ، ایم این ایز ، وزراء کو اوون کریں کیونکہ یہی برے وقت کے ساتھی اور وفا کی عمدہ نشانی ہیں اور حرف آخر دونوں سیکریٹری صحت کو فی الفور تبدیل کیا جائے جو سارا ملبہ دوسروں پر ڈال کر انسان کش پالیسیاں ترتیب دیتے ہوئے ، حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔
امید برآں ہے۔
سپر سی ایم ان گزارشات پر احکامات صادر فرما کر کارکن لور میاں محمد نواز شریف کی عوام دوستی کا پاس رکھیں گی۔