غزہ کا بچہ اب بھی تمہارا منتظر ہے

عدینہ سہیل
وہ ٹوٹے ہوئے پتھر وہ ملبے کے ڈھیر کے نیچے دبے لوگوں کا وجود وہ گھروں کے اد کھلے دروازے وہ بچوں کی چیخیں وہ بموں کی دل دہلا دینے والی اوازیں وہ لوگوں پر ہوتے ظلم و ستم ان کی درد بھری انکھوں کو نظر انداز کر دینے والے اسرائیلیوں کے سخت چہرے اور اسی ماحول میں موجود محمد یوسف نام کا باہمت لڑکا جو اب اپنی ہمت کھو رہا تھا شاہین سے زیادہ اونچی اڑان کا خواہش مند اونچے اونچے سنہری خواب دیکھنے والا محمد یوسف اب چھوٹی چھوٹی چیزوں کا محتاج ہو گیا تھا زندگی نے اسے اپنا بھیانک چہرہ محض 10 سال کی عمر میں ہی دکھا دیا تھا وہ کبھی اپنے کٹے بازو کو دیکھتا کبھی ٹوٹے گھر کو اور کبھی ملبے تلے دبی ماں کے بارے میں سوچتا کہ جس کا اب تک کچھ پتہ نہ تھا وہ سارا دن درد میں تڑپتا رہتا اور کسی کی مدد کا انتظار کرتا کہ کوئی ائے اور اس کو کھانا دے کر اس کی بھوک مٹائے کبھی کبھی امدادی ٹیم ا کر اس کو کھانا دے جاتی تھی مگر اس وقت کا کیا جب اس کا  بھوک کی شدت سے سارا دن ہی گزر جاتا جب وہ بھیگی انکھوں میں اپنے خواب کا جنازہ نکلتے دیکھتا جب اسے سوکھے پتے کھا کر گزارا کرنا پڑتا اور جب اس کے پاس جسم چھپانے کے لیے کپڑا بھی نہ ہوتا تو اس وقت وہ سسک سسک کر اللہ کی نصرت کو پکارتا اور کسی فرشتے کے انتظار میں رہتا کہ جو اس کا حال دل سمجھ سکے اس کی ضرورتوں کو پورا کر سکے۔۔