ٹرمپ انتظامیہ جج کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس لے آئی

ٹرمپ انتظامیہ جج کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس لے آئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکومتی افسران کو برطرف کرنے کے اختیارات کا قانونی امتحان، سپریم کورٹ میں کیس پہنچا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حکومتی افسران کو برطرف کرنے کے اختیارات کے حوالے سے ایک اہم قانونی مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر کیا ہے۔ یہ کیس وفاقی جج کے فیصلے کے خلاف ہے، جس میں ہیمپٹن ڈیلنگر کو دوبارہ ان کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ہیمپٹن ڈیلنگر، جو آفس آف اسپیشل کونسل (او ایس سی) کے سربراہ ہیں، کو 7 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ نے بغیر کسی وجہ کے فوری طور پر برطرف کر دیا تھا۔ تاہم، ڈیلنگر نے اس برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مقدمہ دائر کیا، جس کے بعد ایک ضلعی عدالت کے جج نے انہیں عارضی طور پر بحال کرنے کا حکم دیا۔ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کو حکومتی افسران کو برطرف کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہونا چاہیے، اور کسی بھی جج کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ صدر کی انتظامی طاقت میں مداخلت کرے۔ اس کیس میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا صدر کو آزاد حکومتی اداروں کے سربراہوں کو برطرف کرنے کا لامحدود اختیار حاصل ہو گا؟اس مقدمے کے نتیجے میں امریکہ کی حکومتی ساخت پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے، اور اگر سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ دیا تو مستقبل میں صدر کو آزاد اداروں کے سربراہوں کو برطرف کرنے کی زیادہ طاقت مل جائے گی۔ کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ امریکہ کے وفاقی حکومتی ڈھانچے کو مضبوط یا کمزور کر سکتا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کا اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔