بانی کا رمضان کے بعد بھرپورتحریک کااعلان، آئینی ترمیم کے دن غیر حاضر ارکان کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ

PTI :باغی ارکان اسمبلی چھٹی 
 بانی کی زرقا سہروردی، سینیٹر فیصل سلیم ،اسلم گھمن، ریاض فتیانہ ، مقدار علی خان،اورنگزیب کچھی ظہور قریشی، عثمان علی اور مبارک زیب کو نکالنے کی ہدایت ،تحریک کیلئے اسدقیصراورعمرایوب کو رابطوں کا ٹاسک دیدیا،ثنا اللہ مستی خیل سیاسی کمیٹی میں شامل،بیک ڈوررابطوں کاعلم نہیں:سلمان اکرم 
 اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)بانی پی ٹی آئی نے 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر غیر حاضر رہنے والے ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ،پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان نے زین قریشی کے علاوہ دیگر تمام غیر حاضر ارکان کو پارٹی سے نکالنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کی سینئر قیادت کو پیغام بھجوا دیا ہے اور غیر حاضر رہنے والے ارکان کے خلاف کارروائی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ آئینی ترمیم کے دن چھپے رہے ان کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے دن زرقاء سہروردی، سینیٹر فیصل سلیم اور زین قریشی غیر حاضر رہے تھے جبکہ اسلم گھمن، ریاض فتیانہ، زین قریشی، مقدار علی خان اور اورنگزیب کچھی کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ظہور قریشی، عثمان علی اور مبارک زیب بھی ترمیم کے دن پارٹی قیادت کے رابطے میں نہیں تھے۔قبل ازیں عمران خان کے وکیل فیصل چودھری نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان نے رمضان المبارک کے بعد بھرپور تحریک چلانے کی ہدایت کی ہے اور اپوزیشن سے رابطوں کیلئے اسدقیصر اور عمرایوب کو ٹاسک دے دیاہے ، انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی گئی جبکہ ثناء اللہ مستی خیل کو سیاسی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وکلاء اور صحافیوں میں پک اینڈ چوز کرکے اڈیالہ جیل کے اندر بھیجا جاتا ہے، ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اوپن ٹرائل کی درخواست دائر کی ہے، بانی عمران خان نے اپنے تینوں خطوط کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ اوپن خطوط ہیں اور سب کیلئے ہیں، بانی نے کہا ہے ملک میں بڑھتی دہشت گردی کا سدباب کرنا ہوگا، عدلیہ کو کرش کیا گیا ہے۔ بانی نے کہاکہ ہم بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں۔دوسری طرف انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما سینیٹر شبلی فراز کا کہناتھاکہ اب تو پتا ہی نہیں چلتا کہ ہم کس کیس میں عدالت آئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے سے متعلق سوال اسی سے پوچھیں، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ،پی ٹی آئی میں کوئی گروپ بندی نہیں،پہلی پارٹی ہے جس کا لیڈر جیل میں ہے اس کے باوجود پارٹی یک جا ن ہوکرکھڑی ہے ،گرینڈ الائنس سے متعلق میٹنگز ہورہی ہیں،آنے والے ہفتہ میں مکمل لائحہ عمل دینگے۔پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے پارٹی قیادت کے بیک ڈور رابطوں کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیک ڈور رابطوں کے حوالے سے مجھے علم نہیں تاہم اپوزیشن جماعتوں کا الائنس خوش آئند ہے ، بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کسی ڈیل کے تحت باہر نہیں آئیں گے۔ صحافی نے شیر مروت کے مجھے کیوں نکالا؟ والے سوال پر ردعمل مانگا تو سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس کا جواب وہ خود جانتے ہیں وہ بس معصومیت کا اظہار کررہے ہیں، یہ عمران خان کا فیصلہ ہے اور وہ بغیر ٹھوس وجہ کے فیصلہ نہیں کرتے۔ پی ٹی آئی رہنما شہریار آفریدی نے کہاکہ 26 نومبر کے حوالہ سے آئین وقانون کی بالا دستی کا علم میرے لیڈر نے اٹھایا ہواہے،حق کی بات کرتے ہیں تو اللہ آپ کو آزماتاہے۔