ہر روز نئے منصوبے کا اعلان کر ینگے، :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مارچ کاجواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں :بیرسٹرگوہر
پشاور،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،بیورو رپورٹ)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا آج سے شروع ہونے والا لانگ مارچ لکی مروت سے کرک پہنچ گیا۔اس سے قبل سہیل آفریدی بذریعہ ہیلی کاپٹر پشاور سے لکی مروت پہنچے تو کارکنوں نے ہیلی پیڈ پر اْن کا استقبال کیا۔ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بندکمروں کی پالیسی جوخیبرپختونخوا کیمفاد میں نہیں ہوگی وہ نہیں مانیں گے۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاق میں جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی اْس وقت امن تھا، موجودہ وفاقی حکومت کی پالیسی سے دہشت گردی ختم نہیں ہوئی بلکہ مزیدبڑھی ہے۔سہیل آفریدی نے دعوی کیا کہ جوپالیسی وہ دے رہے ہیں اْس سے100 دن میں امن قائم ہوسکتاہے۔ آج کرک سے روانہ ہوں گے اور ہر دن کا پلان دیں گے۔ اور جب ہم صوابی پہنچیں گے تو یہ تحریک ملک کے ہر کونے تک پہنچ چکی ہوگی اور ہر چوک سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہو گا۔ تحریکِ انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات میں ناکامی کی بنیادی وجہ حکومت کا یہ اصرار تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت، صوبے میں دہشت گردی کے خلاف وفاق اور اس کے اداروں کی جانب سے کیے جانے والے تمام اقدامات اور آپریشنز کی توثیق کرے۔ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انضمام شدہ اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں 72 گھنٹوں کے اندر ہنگامی اقدامات کے نفاذ کی توثیق کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ پی ٹی آئی کی ٹیم کا موقف یہ تھا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کسی بھی صورت میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گی۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی کو قرار دے دیا۔پشاور سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ سب سے پہلے سیاسی قیادت کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت کی اجازت دی جائے لیکن حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی کا معاملہ فی الحال معاہدے میں شامل نہیں ہوگا اور قابلِ غور بھی نہیں ہے، جس کے باعث مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا ہوا۔ سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی کے پی شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا کرکے مایوس کیا، اب حالات خراب ہوئے تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سے حالات مزید خراب ہونگے۔ مطالبات تسلیم ہونے تک لانگ مارچ جاری رہے گا۔ ادھر جنوبی وزیرستان اپر سے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے لیے روانہ ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کے قافلے کو پولیس نے مکین کے علاقے دو سڑک کے مقام پر روکنے کی کوشش کی اور اس دوران کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیل پھینکے گئے ہیں جس سے ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس کے مطابق احتجاجی دھرنے کے دوران بعض شرکاء نے پولیس بیریئرز پر حملہ کیا، جس کے بعد صورتحال کو قابو میں رکھنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور پلاسٹک کی گولیوں کا استعمال کیا۔