وفاقی کابینہ نے اسٹیٹ بینک میں اعلیٰ تعیناتیوں کے لیے دہری شہریت کی شرط ختم کرنے کے حوالے سے ایک 7 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
یہ فیصلہ وزارت خزانہ کی جانب سے اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956 میں ترمیم کی سفارش کے بعد کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، وزارت خزانہ نے ڈیجیٹل کرنسی کے اجرا اور اسٹیٹ بینک کے افسران کے لیے دہری شہریت سے چھوٹ دینے کے معاملے پر وفاقی کابینہ سے ترمیم کی تجویز دی تھی۔ اس ترمیم میں اسٹیٹ بینک کے بورڈ، مانیٹری پالیسی کمیٹی، اور ڈپٹی گورنر کی تعیناتی کی شرائط میں نرمی کی سفارش کی گئی تھی۔
تاہم، کابینہ کے ارکان نے اس تجویز کی مخالفت کی اور اس موقف کا اظہار کیا کہ دہری شہریت رکھنے والے افراد کو اسٹیٹ بینک اور دیگر اہم اداروں میں تعینات نہیں کیا جانا چاہیے۔ کابینہ ارکان نے واضح کیا کہ دہری شہریت والے افراد کی تعیناتی سے قومی مفادات پر اثر پڑ سکتا ہے، اس لیے ان تعیناتیوں کے لیے سخت ضوابط کی ضرورت ہے۔اس کمیٹی کا قیام اس معاملے کو مزید جائزہ لینے اور اس پر مشاورت کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اس معاملے پر مزید پیشرفت متوقع ہے۔