امیروں کے شہر میں غربت

غلام علی

کل شب جب میں گودِ بستر میں تھا اور چشم ِبند کے ساتھ سونے کی تیاری تھی تو کسی مجبورکی بے بسی نے میرے دماغ کے دروازے پر دستک دی۔دستک کی آواز میرے ضمیر کی سلطنت سے ہوتی ہوئی میری سماعت  کے آنگن تک آ پہنچی ۔تھکے ہوئے دل کے ساتھ اٹھا اور دروازے کے رُو برُو ہوا۔کون؟ پوچھنے پر مقابل سے جو آواز آئی ‘ اس آواز میں زندگی ناچتی ہوئی نظر آئی، مجبوریاں باراتی تھیں۔ضرورتوں کی شہنائی گونج رہی تھی، چہرے پر زندگی کی تلخیوں کی نشان تھے اور اُس آواز کے پیچھے ہاتھ باندھے کوئی حاجت کھڑی تھی۔جن نفیس ہاتھوں کی نفیس انگلیوں سے دستک دی گئی تھی شاید ان میں کسی ملک کی ملوکیت تھی‘ بناوٹ میں شہنشاہیت تھی ، آواز میں حاتم طائی کی سخاوت تھی مگر مقدر کی فضا دھندلی تھی۔
یہ حاجت طلوع آفتاب کے ساتھ ہی اپنی خواہشوں اور حسرتوں کی بارات لئے اپنی منزل کی طرف رواں دواںہو پڑتی ہے ۔ بچوں کی آنکھوں میں جی بھر کے دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوتا ۔کبھی کبھی تو چاہت کا بوسہ دیے بغیر ہی مجبوری کے سیلاب میں بہہ نکلتی ہے۔سیلاب کی ہر کروٹ پر ایک نئی دلدل بنتی جاتی ہے جس میں اس کی خواہشیں اور حسرتیں غوطے کھاتی جاتی ہیں۔ لگتا ہے دلدل کے غوطے ایک طرف اور اس کی بے بسی کا طوفان ایک طرف۔ کبھی اپنے خوب صورت گھر کی تعمیر کرتی ہے اورکبھی گھر کے اوپر پیاری سی اُس بال کونی کے خواب دیکھتی ہے جہاں سے پورے شہر کا نظارہ کرنااسے اچھا لگتا  ہے۔ کبھی اپنے بچوں کو بڑی بڑی گاڑیوں میں گھمانا چاہتی ہے۔ کبھی لذیذ کھانوں کی طلب کا مقابلہ کرتی ہے۔کبھی کھلونوں کی الجھی زلفوں میں الجھ جاتی ہے۔
جب وہ کسی امیر انسان کے گھر جاتی ہے تو اس کی پہلی بھوک یہ ہوتی ہے کہ باجی اسے پیار سے بلائے اور دوسری یہ کہ باجی اس سے ناشتے کا پوچھے اور تیسری یہ کہ باجی اسے اپنا اور اپنے بال بچوں کا بچا ہوا ناشتہ نہ دے۔ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے گھرانے ہیں جو کسی حاجت کو بھی اپنی مہمان سمجھتے ہوئے مہمان نوازی کے تقاضے پورے کرتے ہیںاور اپنے خاندانی ہونے کا عملی ثبوت دیتے ہیں۔ ایسے گھرانوں میں غربت یا بے بسی کسی انسان سے نفرت کا سبب نہیں ہوتی ۔یہ لوگ روایات کی پاسداری کرتے ہیں ، انسان کا بھرم رکھتے ہیں ۔ہاں کچھ دولت سے مالا مال ہوتے ہیں مگر اُن کے نصیب میں شاباش یا تعریف نہیں لکھی ہوتی ۔ کہتے ہیںکسی عورت کو دیکھنا ہو کہ وہ کتنی دانا ہے تو اس کے کچن اور غسل کھانے کو دیکھ لو جتناصاف ہو گا وہ اتنی ہی دانا ہو گی ۔اسی طرح جب کسی خاندان کے ظرف کو دیکھنا ہو تو اس کے دوستوں اور نوکروں کو دیکھ لو جن کے دوست اور نوکر جتنے پرانے ہوں گے وہ لوگ اتنے ہی اچھے ہوں گے۔ 
میری گفتگو کا موضوع  وہ  ’ ماسی‘  یا ’کام والی‘  ہے جولوگوں کے گھروں میں جا کر کام کرتی ہے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہے ۔سارا سارا دن خدمت کرنا ، مالکن کی باتیں سننا، ڈر ڈر کے قدم رکھنا، زبان کو قفل لگائے  رکھنا، نظر کوپابند سلاسل  رکھنا ، خواہشات کو ہتھ کڑی میں جکڑے رکھنا، اس کا معمول بن چکا ہوتا ہے ۔ سارے دن کی محنت کے بعد اس کے دماغ میں چند چیزوں کی طلب ہوتی اور وہ چیزیں بھی چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں کہ جاتے ہوئے باجی سالن دے گی ، بچے سارا دن چاکلیٹ کھاتے رہے، ہو سکتا ہے میرے بچوں کے لئے بھی مل جائے ۔گھر میں کبھی کبھار آئے مہمان بھی کچھ دے جائیں تو ماسی کے لئے عید کا سماں ہوتا ہے۔افسوس کہ مالکن یا باجی جاتے ہوئے وہ سالن دے دے جو آٹھ دن سے فریج میں پڑا تھا جس کے باہر پھینکنے کا وقت آگیا تھا، یا باجی اپنے پھٹے پرانے کپڑے دے دیتی ہے جو اس نے گلی میں پھینکنے ہوتے ہیں ۔جب ہم اپنے خدا سے اپنے لئے کچھ مانگیں تو بہت اچھا، بہت لذیذ، بہت پیارامگر جب اُسی خدا کے بندے کو اُسی خدا کی رضا کے لئے دینا ہوتو اپنا بچا ہواکھانا، پھٹے ہوئے کپڑے ، گفتگو میں تکبر،نظر میں حقارت، رویے میں فرعونیت اورسوچ میں شرارت۔جیسے مصور کو اپنی ہر تصویر اور شاعر کو اپنا ہر کلام اچھا لگتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق اچھی لگتی ہے جب اس کی مخلوق کے ساتھ اسکا بندہ حقیرانہ رویہ اپنائے تو سوچیں خدا کو کیسا لگے گا۔ 
اے بندہ خدا:! آنکھیں بند ہونے کو ہیں، نقارہ موت بجنے کو ہے، قبر نے منہ کھول لیا ہے، حساب کتاب کا در کھلنے کو ہے۔شہادتیں تیار ہیں ، مخبر موجود ہیں ، احتساب قریب ہے اورعدالت لگنے کو ہے ۔