عتیق چوہدری
پاکستان میں غربت کا خاتمہ آج کسی فلاحی منصوبے سے کہیں بڑھ کر قومی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کی بنیاد بن چکا ہے۔ ممتاز ماہر اقتصادیات جیفری ڈی ساکس (Jeffrey D. Sachs) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب 'دی اینڈ آف پوورٹی' میں یہ اہم فکری رہنمائی فراہم کی کہ انتہائی غربت (Extreme Poverty) کا خاتمہ ایک اخلاقی نہیں بلکہ ایک سائنسی اور اقتصادی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ممکن ہے۔ تاہم پاکستان کا حالیہ منظرنامہ ساکس کے بیان کردہ 'غربت کے جال' (Poverty Trap) میں گہرائی سے پھنسے ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ 2025 نے پاکستان میں غربت کی تشویشناک صورتحال کو بے نقاب کیا ہے، جس کے مطابق ملک میں گزشتہ تین سال کے دوران غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ اب بڑھ کر 25.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک دور تھا جب قومی غربت کی شرح 2001-02 میں 64.3 فیصد سے کم ہو کر 18.3 فیصد تک آ گئی تھی، جس میں 2001سے 2015 تک سالانہ 3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم، افسوسناک بات یہ ہے کہ 2020 کے بعد سے یہ رجحان پلٹ گیا، اور مالی سال 2024-25 میں غربت 25.3 فیصد پر جا پہنچی ہے۔ رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ اگرچہ 2011 سے 2021 کے دوران لوگوں کی آمدنی میں 2 سے 3 فیصد اضافہ ہوا اور 57 فیصد غربت غیر زرعی آمدن سے کم ہوئی، مگر کم آمدنی اور غیر رسمی شعبوں میں بالترتیب 85 فیصد اور 95 فیصد افراد کے کام کرنے کے حقائق پائیدار ترقی کے راستے میں اہم چیلنجز ہیں۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی رپورٹس کے مطابق، ملک کی تقریباً 40 فیصد آبادی کثیر الجہتی غربت کا شکار ہے، جبکہ ایک اور تخمینہ بتاتا ہے کہ 18 سے 20 فیصد لوگ روزانہ2.15 ڈالرعالمی معیار سے کم پر گزارہ کر رہے ہیں۔ورلڈ بینک (World Bank) اور ادارہ شماریات پاکستان (PBS) کے اعداد و شمار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مہنگائی اور معاشی سست روی کی وجہ سے لاکھوں افراد دوبارہ خطِ غربت سے نیچے جا رہے ہیں، اور دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 50 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ قرضوں کا مسلسل بوجھ اور پے در پے بیرونی بیل آؤٹ کی ضرورت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہماری معیشت قلیل مدتی فنانسنگ پر منحصر ہے۔ یہ مالی امداد ہماری سٹرٹیجک خودمختاری کو کمزور کرتی ہے، اور عالمی طاقتیں ان قرضوں کو سفارتی دباؤ کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔جیفری ساکس کی تحقیقی رپورٹس کی روشنی میں پاکستان کو محض 'توازن' کے اصول پر اکتفا کرنے کی بجائے، ان کے پیش کردہ اقتصادی بحالی کے اصولوں کو اپنانا ہو گا تاکہ وہ قرض دہندہ ممالک کے دباؤ کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکے۔ ساکس کے تین بنیادی اصول 'بڑا دھچکا' (Big Push) کے ذریعے غربت کا جال توڑنا، 'کلینکل اکنامکس' کے ذریعے تشخیصاور ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کی معیشت کے لیے لازمی ہیں۔ ہماری معیشت کی قلیل مدتی فنانسنگ پر انحصار اور بنیادی ڈھانچے (جیسے پانی، بجلی، جدید زراعت) میں سرمایہ کاری نہ کر پانا اسی 'غربت کے جال' کی سب سے بڑی علامت ہے۔
عالمی اقتصادی فورم (WEF) کی رپورٹوں میں پاکستان کو ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں معاشی ناہمواری (Inequality) بہت زیادہ ہے، جو حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مزید بڑھ رہی ہے۔ یہیں پر ایڈم سمتھکی معیشت پر بنیادی کتاب ’دی وبلتھ آف نیشنز‘ کا تجزیہ کو سمجھنا اور موجودہ حالات کے مطابق اپنی پالیسی تشکیل دینا اہم ہے۔ سمتھ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ قوم کی اصل طاقت قومی پیداوار اور منڈی کے آزادانہ نظام میں مضمر ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائی اور وسائل کو منڈی کی قوتوں کی حوصلہ افزائی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر لگائے، تاکہ ملک غربت کے گڑھے سے نکل سکے۔جیفری ساکس کا 'کلینکل اکنامکس' کا اصول یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہماری اقتصادی پالیسیاں سطحی اصلاحات سے ہٹ کر بنیادی بیماریوں، جیسے ٹیکس کی کم شرح اور گردشی قرضیکی تشخیص پر مبنی ہوں۔ ساکس کے مطابق، قرضوں کو صرف مالی خسارہ پورا کرنے کے بجائے، ان کو انسانی سرمایہ (Human Capital) کی ترقی پر خرچ کرنا ہو گا۔
لیکن غربت کے خاتمے کا ایک بنیادی تقاضا یہ بھی ہے کہ سیاسی نظام میں میرٹ اور اہلیت کو فوقیت دی جائے۔ یہاں نوبیل انعام یافتہ ڈینئل کانیمن (Daniel Kahneman) کی شہرہ آفاق کتاب 'تھنکنگ، فاسٹ اینڈ سلوم' کی بصیرت کلیدی ہے۔ کانیمن کے مطابق، انسانی فیصلے اکثر منطق اور عقل کے بجائے جذباتی تعصباتکی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں پالیسی سازی کی ناکامی اور وسائل کا غیر مؤثر استعمال جزوی طور پر اسی 'جذباتی اور ذاتی مصلحتوں پر مبنی فیصلہ سازی' کی عکاسی ہے۔ ساکس کا 'کلینکل اکنامکس' تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے جب حکومتی سطح پر کانیمن کے اصولوں کے مطابق سست، سوچا سمجھا اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیا جائے۔
اس چیلنج کو مزید اجاگر کرتے ہوئے ڈیرن ایسیموگلو (Daron Acemoglu) اور جیمز اے رابنسن (James A. Robinson) کی شہرہ آفاق کتاب ’وائے نیشنز فیل‘ (Why Nations Fail) کا تجزیہ شامل کرنا ضروری ہے۔ ان کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ جو ممالک 'انحصاری ادارے' (Extractive Institutions) رکھتے ہیںجہاں وسائل کو ایک چھوٹے سے اشرافیہ طبقے کے لیے نکالا جاتا ہے، وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی بنیادی بیماریاں، جیسا کہ ساکس نے اشارہ کیا، ہمارے سیاسی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں گہرائی سے پیوست ہیں۔ جب تک ہماری معیشت انحصاری سے شراکتی (Inclusive) نہیں ہوتی، جہاں تمام شہریوں کو مواقع میسر ہوں، کوئی بھی بیرونی امداد یا 'بگ پش' مؤثر نہیں ہوگا۔
جوزف نائی (Joseph Nye) کے 'سافٹ پاور' کا نظریہ تب ہی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جب اس کی بنیاد ایک مضبوط معیشت پر ہو۔ اگر پاکستان جیفری ساکس کی تجویز کے مطابق اپنی زراعت کو جدید بنائے، ٹیکس بیس کو بڑھائے اور ملک میں معاشی شفافیت لائے، تو یہ بیرونی دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔ ایک معاشی طور پر مستحکم پاکستان کو عالمی طاقتیں بھیک مانگنے والے کی بجائے ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھیں گی، جو اپنی سٹریٹیجک پوزیشن کا فائدہ آزادانہ طور پر اٹھا سکے گا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے 'توازن اور بقا' کے کھیل میں اقتصادی استحکام ہی سب سے بڑا اور اہم ستون ہے۔ جیفری ڈی ساکس، ایسیموگلو اور کانیمن جیسے ماہرین کے نظریات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہماری کمزوری سکیورٹی یا جغرافیہ میں نہیں، بلکہ کمزور اقتصادی ڈھانچے اور انحصاری اداروں میں ہے۔ عالمی دباؤ کا مقابلہ کرنے اور غربت کے دیرپا خاتمے کے لیے، ہمیں سب سے پہلے داخلی اقتصادی اصلاحات، ٹیکس کے نظام میں جدت، اور وسائل کے شفاف استعمال پر توجہ دینا ہو گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں SMEs کی حوصلہ افزائی کریں، معیاری تعلیم اور ہنر کی فراہمی کو اولین ترجیح بنائیں، اور انصاف و صداقت پر مبنی اخلاقی اقدار
کو نظام کا حصہ بنائیں۔ پاکستان کی حقیقی آزادی اب سیاسی بیانات میں نہیں، بلکہ مضبوط ادارہ سازی، اقتصادی فارمولوں پر عمل درآمد، اور ہر شہری کے ذمہ دارانہ، ایماندار اور مخلصانہ کردار میں مضمر ہے۔