سار ی عمر جیل میں گزار دوں گا‘کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا بانی پی ٹی آئی

ہم سب اس ملک کی حقیقی آزادی کے لئے قربانی دے رہے ہیں، آپ نے صبر کرنا ہے اور میرے ساتھ مل کر ظلم کا مقابلہ کرنا ہے
 9مئی کے فالس فلیگ آپریشن اور 26 نومبر واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ‘جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) قید میں 500 دن مکمل ہونے پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے ورکرز اور وکلاء سے اڈیالہ جیل عدالت میں گفتگو، کہا کہ میں ساری عمر بھی جیل میں گزارنے کے لئے تیار ہوں، لیکن وقت کے یزید کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا۔ تفصیلات کیمطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے ایکس پر جاری پر اپنے بیان میں کہا  ’اللہ الحق ہے، وہ حق سچ کا خدا ہے اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، ہم سب اس ملک کی حقیقی آزادی کے لیے قربانی دے رہے ہیں، آپ نے صبر کرنا ہے اور میرے ساتھ مل کر ظلم کا مقابلہ کرنا ہے۔ ڈی چوک میں  نہتے اور پر امن شہریوں پر بلااشتعال گولیاں چلائی گئیں، ہم اس واقعہ کو کبھی بھی بھولنے نہیں دیں گے اور اپنے ورکرز اور شہداء کو انصاف دلائیں گے۔مجھے ورکرز اور وکلا نے بتایا ہے  ابھی تک سامنے آنے والے 12 شہدا وہ ہیں جنہیں 26 نومبر کو مغرب سے پہلے شہید کیا گیا اور باقی لوگوں کو رات کو علاقے کی بجلی بند کروا کر  گولیاں ماری گئی ہیں، ان کو کدھر غائب کیا گیا ہے؟ ابھی بھی درجنوں افراد مسنگ ہیں، مسنگ پرسنز کو تلاش کرنا اور تمام ڈیٹا پبلک کرنا  حکومت کی ذمہ داری ہے۔میڈیا سمیت ہزاروں لوگوں نے اندھا دھند فائرنگ اور بربریت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور اس کے بعد ہسپتالوں کا ریکارڈ غائب کرنے اور شہدا کی لاشیں ورثاء کو فراہم کرنے سے انکار کی بھی میڈیا رپورٹس موجود ہیں۔بانی پی ٹی آئی نے کہا  ہمارا مطالبہ ہے  جلد از جلد 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن اور 26 نومبر کے اسلام آباد قتل عام کی  شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کے لئے آزادانہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں سینئر ترین سپریم کورٹ ججز شامل ہوں۔مزید اپنے پیغام میں قوم تیار رہے، میں جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔