سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہونے جب جنرل اسمبلی سے خطاب کیاتومتعدد ممالک کے وفوداحتجاجاًایوان سے نکل گئے۔یہ منظربتارہاتھا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کواب عالمی برادری مزیدبرداشت کرنے پرآمادہ نہیں۔غزہ میں قتلِ عام کے پس منظرمیں یورپی فٹ بال تنظیم’’یوئیفا‘‘نے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کاعندیہ دیاہے۔اگریہ قدم اٹھایاگیا تویہ اسرائیل کے عالمی کھیلوں کے محاذپرایک بڑی شکست ہوگی۔
یورپی ملک سلووینیانے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہوپرسفری پابندیاں عائدکردی ہیں۔یہ اعلان گویایورپ کے ضمیرکی پہلی بیداری ہے، ایک اشارہ کہ اب عالمی برادری اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کی طرف بڑھ رہی ہے۔اسی دوران اسرائیلی فوج نے یمن کے دارالحکومت صنعاپرشدیدبمباری کی۔یہ بمباری مشرقِ وسطی میں آگ کومزید بھڑکانے کے مترادف ہے اوریہ سوال جنم لیتی ہے کہ کیاعالمی امن منصوبے اس شعلے کوبجھاپائیں گے یانہیں؟
مشرقِ وسطیٰ کے تذکرے میں پاکستان کاذکرگویاناگزیرہے۔سعودی عرب اورپاکستان کاحالیہ دفاعی معاہدہ امریکاکی نظر سے پوشیدہ نہیں،اس نے امریکاکومتوجہ کیاہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ عرب ممالک سے گفتگوکے ساتھ ساتھ پاکستانی رہنماؤں سے بھی بات چیت کرتے ہیں توصاف ظاہرہوتاہے کہ ٹرمپ کاعرب دنیااورپاکستان دونوں سے گفتگوکرنا اس حقیقت کی دلیل ہے کہ واشنگٹن خطے میں پاکستان کی حیثیت کوایک ناگزیرکھلاڑی سمجھتاہے اورخاص اہمیت دیتاہے۔
فیلڈمارشل عاصم منیروہ پہلے پاکستانی رہنماہیں جنہوں نے وائٹ ہاؤس کے دروازے پرقدم رکھااورٹرمپ سے براہِ راست ملاقات کی۔ان کے حالیہ دورے خواہ وہ خلیجی ممالک ہوں،وسطی ایشیاہویاشنگھائی تعاون تنظیم،سب اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں عسکری قیادت اب محض پس پردہ کردارنہیں بلکہ اگلی صف کی علم بردار ہے اوریہ اعلان ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فوج کاکرداراب پردے کی اوٹ نہیں بلکہ روشن اسٹیج پرہے۔ جولائی کی کورکمانڈرکانفرنس میں عاصم منیرنے ان دوروں کو کامیاب سفارت کاری قراردیاہے۔وزیرِاعظم شہبازشریف اورفوجی قیادت کے اشتراک کودنیانے ایک ذمہ دارسفارت کاری کانمونہ قراردیاہے جس نے دنیاکو یہ باورکرایاکہ پاکستان ایک ذمہ دارریاست کے طورپرابھررہاہے۔
مبصرین بھی مانتے ہیں کہ خارجہ پالیسی کی لگام اورخارجہ پالیسی کے تمام اہم ہتھیاروں پرفوج کی گرفت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اوروزیرِ اعظم اس کھیل کے جونیئرپارٹنراورمحض شریکِ سفرہیں۔یہ بھی واضح ہے کہ فیلڈمارشل عاصم منیر ڈرائیونگ سیٹ پرہیں اورسویلین حکومت ان کی معاون ہے۔وزیرِ اعظم کے ہمراہ ان کے غیرملکی دورے فوج کے بڑھتے
ہوئے عوامی وسفارتی کردارکی گواہی دیتے ہیں اورباہم تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں سول اورملٹری قیادت کی ہم آہنگی کھل کرسامنے آتی ہے۔سیاسی مبصرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ فوج ہی پاکستان میں بالخصوص خارجہ پالیسی کی اصل ڈورسنبھالے ہوئے ہے۔اب اس میں کوئی راز نہیں کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی کاساز فوج کے ہاتھ ہی بجاتاہے۔
فیلڈمارشل عاصم منیراپنے پیش روؤں سے زیادہ محتاط اورپراعتماددکھائی دیتے ہیں۔ان میں وہ توانائی ہے جومئی کی جھڑپ کے بعداوربھی نمایاں ہوئی ہے۔دوسری طرف ٹرمپ کی سیاست کسی ایک دھارے پرنہیں بہتی۔کبھی مودی کو ’’دوست‘‘کہااور پھربھارت پرٹیرف کی تلوارچلادی۔کبھی پوتن سے رشتہ جوڑااورپھریوکرین پران پرتنقیدکے تیروں کی بارش کردی ۔ٹرمپ کی پالیسی کامداران ذاتی روابط پرہے جوانہیں فائدہ پہنچاسکیں۔ٹرمپ کاپیمانہ ذاتی تعلقات ہیں۔وہ انہی کے ساتھ چلتے ہیں جوان کے وعدوں کونبھاتے ہیں۔ پاکستان کیلئے یہی پیغام ہے کہ اپنی قدروقیمت کوسنبھالے رکھے،اور اپنی وقعت کوبرقراررکھے۔ورنہ امریکاکی تاریخ یہی کہتی ہے کہ اس کارویہ بدلتے لمحوں کی طرح ہے اورامریکا کے رویے میں تبدیلی آناًفاناً آتی ہے،نہ کل کی دوستی کی ضمانت دیتاہے،نہ آج کی قربت کوکل تک پہنچاتاہے۔
پاکستان اورامریکاکے تعلقات اس قافلے کی مانندہیں جوکبھی سرسبزوادیوں سے گزرتاہے اورکبھی سنگلاخ صحراؤں کی ریت پربکھرکرٹھٹک جاتاہے۔آج دونوں رفاقت کے ایک نئے موڑپرکھڑے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیاپاکستان اس موڑپراپنی خودمختاری کوبرقراررکھتے ہوئے دنیاکی بڑی طاقتوں کے ساتھ توازن قائم کرسکے گایاپھرطاقتورکی راہ میں اپناساز بجا کرایک اورباب تاریخ کے اوراق میں چھوڑدے گا؟یاپھریہ داستان بھی ماضی کی طرح عہدِ دوستی اوردوری کے نشیب و فرازکی کتاب میں ایک اورباب کااضافہ بن جائے گی؟
اے اہلِ پاکستان!تاریخ کی گواہی سنو۔یہ وہ سرزمین ہے جوکلمہ طیبہ کے نام پربنی تھی،اوریہ وہ قوم ہے جسے اللہ نے اسلام کے پرچم کوبلند کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔لیکن کیاہم نے اپنی اس ذمہ داری کوپوراکیا؟کیاہم نے اس مددکوپانے کے لائق عمل کیا؟یا اپنے فیصلوں کوکبھی واشنگٹن اورکبھی دہلی کے ایوانوں کے رحم وکرم پرچھوڑدیا؟ قرآن کہتاہے:
اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔
یاد رکھو!قومیں سرمایہ کاری یامعاہدوں سے زندہ نہیں رہتیں،وہ اپنے ایمان، اپنی غیرت اوراپنے وقارسے زندہ رہتی ہیں۔ اگرہم نے اپنی خودداری کوسنبھالا،اگرہم نے اللہ کے دین کواپناسہارابنایاتودنیاکی کوئی طاقت ہمیں جھکانہیں سکے گی لیکن اگرہم نے تاریخ کے سبق فراموش کیے توہمارے حصے میں صرف غلامی کی زنجیریں رہ جائیں گی۔آج پاکستان اور امریکاکے تعلقات ایک نئے موڑپرکھڑے ہیں۔یہ موڑصرف سفارت کاری کاامتحان نہیں بلکہ ہماری روح اور ہماری ملت کی آزمائش ہے۔فیصلہ ہمیں کرناہے:کیاہم اپنی خودی کو پہچان کراقبال کے شاہین بنیں گے یاپھر دوسروں کے دسترخوان کے ٹکڑوں پرپلنے والے پرندے بن جائیں گے؟؟ اقبال نے ہمیں یہی سبق دیا تھا:
ہواگرخودنگروخودگروخودگیرخودی
یہ بھی ممکن ہے کہ توموت سے بھی نہ مرسکے
یہ رپورٹ محض واقعات کی ترتیب نہیں،بلکہ ایک عہدکی گواہی ہے۔یہاں سفارت کاری محض کاغذی بیانات سے آگے بڑھ کرایک تاریخی موڑپرکھڑی ہے ہاں پاکستان کے کردارکو نئی مرکزیت مل رہی ہے،اورجہاں دنیااسرائیل کے مظالم پرکھل کرسوال اٹھانے لگی ہے۔
اے پروردگارِعالم!توہی ہے جوقوموں کے دل بدل دیتاہے،اورتوہی ہے جوسلطنتوں کی تقدیررقم کرتاہے۔ہماری کشتی وقت کے طوفانوں میں گھری ہوئی ہے،کبھی مشرق کے طوفاں اسے دہلاتے ہیں اورکبھی مغرب کی ہوائیں اسے بہالے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔اے رب!ہمیں وہ حکمت عطافرماجس کے بغیرطاقت محض ریت کاقلعہ ہے،اورہمیں وہ استقلال دے جو ایمان کے چراغ سے جلتاہے۔
اے اللہ!پاکستان کواپنی پناہ میں رکھ،اس کوغلامی کی زنجیروں سے بچا،اوراس کے حکمرانوں کووہ جرات دے کہ وہ تیرے دین کوسہارابنائیں اورتیرے کلمے کوبلندکریں۔
اے مالک الملک!ہمیں وہ بصیرت عطافرماجس سے ہم پہچان سکیں کہ کون سی دوستی خیرہے اورکون سا تعلق محض دھوکہ۔
اے ہمارے رب!ہمارے دلوں کوٹیڑھانہ کردینابعداس کے کہ تونے ہمیں ہدایت دی اورہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما،بے شک توہی بڑاعطاکرنے والا ہے۔