سائنسدانوں کو دور دراز سیارے پر زندگی کے ممکنہ آثار کی بڑی دریافت

سائنسدانوں کو دور دراز سیارے پر زندگی کے ممکنہ آثار کی بڑی دریافت

غیر ملکی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ہماری دنیا کے علاوہ زندگی کے اب تک کے سب سے بڑے آثار دریافت کیے ہیں۔

 یہ دریافت ہمارے نظام شمسی سے باہر ایک دور دراز سیارے پر ہوئی ہے جس کا نام "کے 2 بی" ہے۔ یہ سیارہ ہماری زمین سے 120 نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے۔جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے محققین نے اس سیارے کے ماحول میں دو گیسوں کی موجودگی کا پتہ چلایا: ڈائمیٹھیل سلفائیڈ (DMS) اور ڈائمیٹھیل ڈسلفائیڈ (DMDS)۔ زمین پر یہ گیسیں بنیادی طور پر مائکروبیل حیات جیسے سمندری فائٹوپلانکٹن سے پیدا ہوتی ہیں، جو اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ممکنہ طور پر یہاں زندگی کے آثار موجود ہو سکتے ہیں۔محققین نے اپنی پریس کانفرنس میں اس دریافت کو حقیقی جانداروں کی موجودگی کے بجائے حیاتیاتی عمل کے آثار کے طور پر بیان کیا اور مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ کیمبرج یونیورسٹی کے فلکیاتی طبیعیات دان اور اس تحقیق کے قائد نکو مدھوسودھن نے کہا کہ یہ وہ پہلے اشارے ہیں جو ہمیں اجنبی دنیا کے بارے میں ملے ہیں، جو ممکنہ طور پر زندگی کی موجودگی کا اشارہ دیتے ہیں۔

نکو مدھوسودھن نے مزید کہا کہ اس دریافت سے نظام شمسی سے باہر زندگی کی تلاش میں ایک نیا موڑ آیا ہے، اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ موجودہ سہولتوں کے ذریعے ہم ممکنہ طور پر قابل رہائش سیاروں میں حیاتیاتی نشانات کا پتا لگا سکتے ہیں۔ اس تحقیق نے فلکیات کے مشاہداتی دور میں ایک نیا باب کھولا ہے، جہاں ہم نے پہلی مرتبہ اس بات کا اندازہ لگایا کہ دور دراز سیاروں پر بھی زندگی کی علامات مل سکتی ہیں۔یہ دریافت سائنس اور فلکیات کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت ہے اور اس سے ہماری کائنات میں زندگی کے امکانات کے بارے میں نئے سوالات اور تحقیقات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ مزید مشاہدات اور تحقیق اس بات کو واضح کرے گی کہ آیا یہ گیسیں واقعی زندگی کی موجودگی کا اشارہ دیتی ہیں یا صرف قدرتی عمل کا نتیجہ ہیں۔