بچوں کے خلاف جرائم کے 17ہزار واقعات، پنجاب سر فہرست رہا ،سینٹ کمیٹی کوبریفنگ

 مزدور کی وفات کی صورت میں تنخواہ سمیت فیملی کو الاؤنس بھی ملتا ہے،ڈائریکٹر جنرل ستھرا پنجاب
اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں بچوں کے خلاف جرائم کے مجموعی طور پر 17ہزار واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سب سے زیادہ پنجاب میں واقعات ہوئے ہیں ۔منگل کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ستھرا پنجاب پروگرام اور گوجرانوالہ میں سینیٹری ورکر ذیشان کی آدھی تنخواہ ملنے پر خودکشی کے معاملے کو تفصیل سے زیر غور لایا گیا۔ مرحوم ذیشان کے ورثا اور ستھرا پنجاب کے حکام کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل ستھرا پنجاب نے کمیٹی کو بتایا کہ مزدور کی وفات کی صورت میں تنخواہ سمیت فیملی کو الاؤنس بھی ملتا ہے۔ تاہم چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زہری نے ستھرا پنجاب حکام کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ دو اجلاسوں میں آپ نے کہا تھا کہ اس مزدور کو نکال دیا گیا تھا۔ ان کی تنخواہ انہیں دے دی تھی اور نوکری سے نکالنے کا لیٹر بھی کمیٹی میں جمع کروایا تھا۔ آپ کا بیان ہی ٹھیک نہیں ہے۔ آپ سیدھی بات بتائیں کہ ہیلپر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں کیا کر رہا تھا۔کمیٹی کو مرحوم ذیشان کے بھائی نے بتایا کہ میرے بھائی کو شروع سے انیس ہزار روپے ادا کیے جا رہے تھے جبکہ ان کی تنخواہ چالیس ہزار طے تھی۔ بھائی نے چیمبر آف کامرس کے ڈی سی سے رو رو کر کہا تھا کہ میری تنخواہ چالیس ہزار ہے لیکن مجھے انیس ہزار دے رہے ہیں۔ اس کے بعد میرے بھائی کا ٹرانسفر کر دیا گیا