احتجاج کے دوران قانونی دستاویزات، فیصلے جل کر راکھ ، عمارتوں کو نقصان پہنچا
کٹھمنڈو(آئی این پی )نیپال میں جنریشن زی کے مظاہروں کے بعد ان اداروں نے سروسز کی بحالی شروع کر دی جن کی عمارات جل چکی ہیں، ان میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے جس کے عملے نے ٹینٹ لگا کر کام کا آغاز کیا ہے۔کھٹمنڈو پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق عبوری حکومت کے لئے وزیراعظم منتخب ہونے والی سشیلا کارکی نے باضابطہ طور پر اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے اور انہوں نے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے 10، 10 لاکھ روپے کے اعلان کے علاوہ انہیں شہید بھی قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق جن محکموں نے سروسز بحال کی ہیں ان میں وزارت خزانہ بھی شامل ہے، اس کے ترجمان تانکا پراساد پانڈے کا کہنا ہے کہ وزارت نے ریاستی معاملات کے لیے رقوم جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔نیپال کی نئی وزیراعظم جن کا انتخاب ایک ایپ پر ووٹنگ کے ذریعے ہوا،ان کے مطابق محصولات کی وصولی بھی شروع کر دی گئی ہے۔سپریم کورٹ کے ایک عہدیدار کے مطابق احتجاج کے دوران تقریبا تمام قانونی دستاویزات اور فیصلے جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔ اسی طرح جن وزارتوں سے متعلق عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے وہ ابھی تک سروسز کو بحال نہیں کر پائی ہیں ان میں وزارت تعلیم بھی شامل ہے