ان کا مقصد ہے پارٹی تقسیم ہو جائے اور اختلافات بڑھتے رہیں‘حکومت کی بات نہیں کرتا کیونکہ حکومت تو ان کی ہے ہی نہیں
عوام کا اعتماد نہ ہو تو جنگ نہیں جیتی جاسکتی‘ کوئی نہیں چاہتا کسی کے بچے شہید ہوں ہمیں اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا
راولپنڈی (آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مجھے جیل میں اپنے قائد سے ملاقات نہیں کرنے دیتے پنجاب حکومت راستے روکنے میں لگی ہے اب کیا میں جیل توڑ دوں اس لئے ادھر آنے کی بجائے اپنے صوبے میں سیلاب زدہ علاقوں میں کام کر رہا تھا میں چاہوں تو جیل جاسکتا ہوں۔ گزشتہ روز توشہ خانہ کیس کی سماعت کے موقع پر اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ کابینہ کا اجلاس یہاں نہیں کریں گے اس طرح اجلاس نہیں ہوتے پنجاب حکومت کے بس میں کچھ نہیں وہ صرف راستہ روک سکتے ہیں ملاقات کی اجازت نہیں دیتے 4/5 گھنٹے بٹھا دیتے ہیں یہاں بیٹھنے کے بجائے سیلاب زدہ علاقوں میں کام کررہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے لیڈر سے اسلئے ملنے نہیں دے رہے انکا مقصد ہے پارٹی تقسیم ہو اور اختلافات بڑھتے رہیں حکومت کی میں بات ہی نہیں کرتا کیونکہ حکومت تو انکی ہے نہیں سوشل میڈیا کو چھوڑیں ہر بندے کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا ملاقات نہ کرانے کی وجہ پارٹی میں تقسیم ہو اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے پارٹی تقسیم ہو مائننگ بل اور بجٹ بل پاس کرانے پر بھی ملاقات نہیں کرنے دی گئی سینٹ الیکشن پر بھی ملاقاتیں روکی گئیں اب باجوڑ والے معاملے پر ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں یہ چاہتے ہیں ملاقاتیں نہ ہو اور کنفیوژن بڑھتی رہے ملاقات ہونے سے کلیئرٹی ہوتی ہے یہ لوگ کلیئرٹی نہیں چاہتے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملاقات کی اجازت نہ دئیے جانے پر کیا میں جیل توڑ دوں یہ ہر ملاقات پر یہاں بندے کھڑے کردیتے ہیں میں چاہوں تو جیل جاسکتا ہوں لیکن جیل توڑنے سے کیا ہوگا اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے پر ہمارے کچھ لوگ بھی بیوقوف بن جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ن لیگ کو شرم آنی چاہیئے شہداء کے جنازوں پر ایسی باتیں کرتے ہوئے ن لیگ ہر چیز میں سیاست کرتی ہے