نماز کی سائنس

 امجد علی
نماز مسلمانوں پر فرض ہے۔ یہ صرف عبادت ہی نہیں بلکہ انسان کو روحانی توانائی عطا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی دینی اور دنیاوی زندگی میں توازن بھی پیدا کرتی ہے۔ صدیوں سے علماء￿ ، صلحاء￿  اور اہل تقویٰ نے نماز کو مختلف روحانی، اخلاقی اور فکری زاویوں سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے، مگر نماز کے سائنسی پہلوؤں پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔

 آئیے، ہم نماز کے مراحل اور اس کے طریق? ادائیگی میں پوشیدہ ان باریک سائنسی حکمتوں کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش کرتے ہیں۔ ان سطور میں نماز کے ایک ایسے پہلو پر روشنی ڈالی جا رہی ہے جس پر مزید تحقیق، غور و فکر اور علمی مکالمے کی شدید ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ اس زاوی? نظر سے دور جدید کے انسان کے ذہن میں ابھرتے بہت سے سوالات کا تسلی بخش جواب مل سکے، اور قرآن حکیم کے اصلاحی، حکمتوں سے بھرپور پیغام کو ایک سادہ اور قابل فہم سائنسی زبان میں عقلی دلائل کے قالب میں پیش کیا جا سکے۔

اس مضمون کا مقصد نماز کو قرآنی حدود اور احکام الٰہی کے دائرے میں رہتے ہوئے، مختلف انداز میں سمجھنے کی ایک منفرد فکری کاوش ہے 

نماز کا عمل اذان سے شروع ہو کر وضو، تکبیر، قیام اور دعا تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ محض چند حرکات و الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ پکار سے ادائیگی تک، نیت سے عمل تک اور لفظ سے وجود تک ایک مکمل سفر ہے۔ قیام صلوٰ? کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث نبوی ? میں بے شمار احکام اور ارشادات موجود ہیں جو نماز کے دینی، روحانی اور عملی فوائد سے آگاہ کرتے ہیں، تاہم یہاں ہم ایک مختصر مگر گہری حدیث پر غور کرتے ہیں۔ حضور اکرم ? نے فرمایا۔ ‘‘نماز جنت کی کنجی ہے۔’’ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نماز قائم کرنا دراصل جنت کی کنجی حاصل کرنا ہے۔ خزائن سے بھرپور جنت کی یہ کنجی اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود انسان کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت انتشار، اضطراب اور کرب سے نجات کا نام ہے؛ یہ سکون، توازن اور تکمیل کی وہ حالت ہے جس کی منزل نماز کے ذریعے طے ہوتی ہے۔

نماز کی ابتدا اذان سے ہوتی ہے، اور اذان کے معنی ہیں پکار، بلاوا۔ مگر یہ کوئی عام پکار نہیں۔ پکارنے والا خود واضح کرتا ہے، آؤ سیدھے راستے کی طرف، آو فلاح کی طرف۔ یوں ابتدا سے انتہا تک نماز ایک مکمل فلاحی منصوبہ بن جاتی ہے، جو انسان کو بھٹکاؤ سے نکال کر مرکز کی طرف لاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرا اور علوم زمانی میں ترقی ہوئی، ویسے ویسے دینی اصطلاحات اور اعمال کے فلاحی پہلو بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ سامنے آتے گئے۔ اگر نماز پر غور کیا جائے تو اس میں محدود اور لامحدود کثیر جہتی فوائد پوشیدہ ہیں۔ محدود جسمانی فوائد میں نماز کے لیے گھر سے مسجد تک چلنا، وضو کرنا، قیام، رکوع اور سجدہ شامل ہیں۔ یہ تمام اعمال دراصل ورزش کی نہایت متوازن صورتیں ہیں۔

مزید یہ کہ ان اعمال کو دن میں پانچ مرتبہ مقررہ اوقات میں دہرانا ہوتا ہے۔ یہ ورزشی نظام اس قدر لطیف اور فطری انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت، ہر شخص بغیر کسی تھکان کے انہیں ادا کر سکتا ہے۔ ان کے درمیان مناسب وقفہ رکھا گیا ہے، ادائیگی میں چند منٹ ہی لگتے ہیں، مگر یہ تسلسل غیر معمولی ہے۔ یہ سب کی جسمانی اور ذہنی ضرورت کے مطابق ہیں۔ یہاں تک کہ سائنسی دور کی جدید ترین ورزشیں بھی ایسے ہمہ گیر فوائد فراہم نہیں کرتیں جو اتنے آسان، قابل عمل اور مسلسل ہوں۔ یوں نماز نہ صرف روح کی غذا ہے بلکہ جسم، نظمِ زندگی اور اجتماعی فلاح کا بھی ایک جامع اور مکمل نظام ہے۔

لامحدود فوائد میں تحرک اور خشوع کے وہ فوائد بھی شامل ہیں جنہیں ہم اپنی زبان میں نفسیاتی فوائد کہہ سکتے ہیں۔ انسان آج کے دور میں معاملات اور معاشرت میں ایک مشین کی طرح چل رہا ہوتا ہے۔ بلاشبہ انسانی دماغ کائنات کی اعلیٰ ترین مشین ہے، جسے بہترین ماحول اور کنٹرولڈ/کنڈیشنڈ آب و ہوا درکار ہوتی ہے، مگر اس کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جب اسے کسی دکھ، پریشانی کا سامنا ہوتا ہے تو اپنی تیز رفتار اور مسلسل متحرک ورکنگ کے باعث وہ اسی دکھ کو بڑھا کر اذیت و عذاب میں بدل دیتا ہے۔ سوچ کی یہ بے قابو فاسٹ گردش کرتی مشین انسان کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہے۔ ایسے میں جب اذان کی آواز فضا میں گونجتی ہے اور بندہ نماز کی نیت کر کے مسجد کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو یک لخت اس کی توجہ اپنے مہربان، رحم کرنے والے خدائے بزرگ و برتر کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ اس کی سوچ دکھ کے محور سے یکلخت شفٹ کر کے ذات الٰہی کے گرد گردش کرنے لگتی ہے۔ بندہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے، خشوع و خضوع سے اپنی عاجزی اور بندگی پیش کرتا ہے، پچھلے دروازے بند کر کے کامل حضوری کے ساتھ مانگتا ہے۔ یہ عمل ذہن کو غم گرفتگی سے نکال کر ایک محفوظ جنت جزیرے میں لے آتا ہے، جہاں دل کو ڈیپ سکون میسر آتا ہے۔

نماز میں کھڑے ہوتے ہی توجہ دکھوں سے ہٹ کر ایک بہت بڑے، طاقتور اور ناقابل شکست سہارے سے جڑ جاتی ہے۔ میڈیکل سائنس کے نقط? نظر سے دیکھا جائے تو بیماری کے علاج میں کامیابی کا پہلا اور سب سے اہم مرحلہ یہی ہے کہ ذہن کی توجہ پریشانی سے یکسر ہٹ کر سکون کی طرف منتقل ہو جائے۔ نماز یہ مرحلہ خود بخود طے کرا دیتی ہے، اور بندہ نماز کے بعد خود کو ہلکا، تازہ دم اور ذہنی طور پر بہت متوازن محسوس کرتا ہے۔

یہاں اب ذرا ٹھہر کر دیکھئیے کہ ظاہری عمل کس طرح باطنی اور نفسیاتی ردعمل میں ڈھلتا ہے۔ انسان کو اشرفْ المخلوقات بنایا گیا اور سائنسی زاوی? نگاہ سے دیکھا جائے تو اس کا دماغ، کائنات میں موجود مشینوں کا سب سے اعلیٰ، پیچیدہ اور نفیس شاہکار ہے۔ یہ محض ایک عضو نہیں، پورے جسم کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر ہے، نہایت حساس، برق رفتار اور ہمہ وقت متحرک ہے۔ مگر ہر اعلیٰ مشین کی طرح اس کی بھی ایک کمزوری ہے اس میں اگر گرد کا ایک ذرہ بھی داخل ہو جائے تو نہ صرف اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کے نتائج مذید بگڑنے لگتے ہیں۔

اسی لیے ہر بڑی مشین کو وقفوں سے صفائی، ترتیب نو اور تازگی کے لیے اوورہالنگ درکار ہوتی ہے۔ غالباً نماز انسانی دماغ کے لیے اسی وقفہ، اوورہالنگ، اور اسی ازسرنو ترتیب کا نظام ہے۔  ذرا کمپیکٹ ڈسک۔۔ سی ڈی کی مثال لیجیے۔ وہ ہموار دائروں میں گھومتی ہے، مگر اگر اس پر ایک معمولی سا سکریچ پڑ جائے تو وہ وہاں اٹک جاتی ہے، رکتی ہے، ایک ہی مقام پر گھومتی رہتی ہے اور یہی تکرار اس زخم کو مزید گہرا کر دیتی ہے، حتیٰ کہ پوری سی ڈی ناکارہ ہو جاتی ہے

اب سوچیے، جب انسانی ذہن ہر مشین سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور طاقتور ہے، تو اس کا کمانڈ سسٹم جتنا صاف، شفاف اور متوازن ہوگا، پورا جسم اتنا ہی صحت مند، فعال اور مربوط رہے گا۔ بصورت دیگر، یہ وجود ریت کی طرح اندر ہی اندر بکھرنے لگتا ہے۔

معملات زندگی میں مسائل کا آنا معمول ہے اور جب کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو وہ لازماً دباؤ اور سڑیس پیدا کرتا ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں دماغی نظام میں کئی طرح کی خرابیاں جنم پاتی ہیں۔ کبھی سگنلز اوورلیپ ہو جاتے ہیں، کبھی وہ ریڈیبل  نہیں ہوتے، اور کبھی سگنل بسز یا ترسیلی نظام میں بلاکیج آ جاتی ہے۔ اگر اسی حالت میں انسان بغیر رکے، بغیر وقفے کے، گھومتا رہے تو دماغ کی تیز رفتاری اور مسلسل چکر سسٹم، ٹینشن کو ایک سے گیارہ، اور گیارہ سے ایک سو گیارہ کے تناسب سے بڑھانے لگتا ہے۔
مزید یہ کہ ذہن کی ملٹی پروسیسنگ کی صلاحیت، (جو بظاہر اس کی طاقت ہے) یہاں اس کے خلاف کام کرنے لگتی ہے۔ ایک جگہ مسئلہ پیدا ہو تو ساتھ چلنے والے دوسرے اشتراکی اعمال بھی رکنے لگتے ہیں، ان کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں، اور یوں ناکامیوں کی ایک زنجیر بن جاتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں، ٹینشن ایریا ضرب کھانے لگتا ہے، ایک مسئلہ کئی مسائل میں ضرب کھاتا ہے۔ اب روزمرہ زندگی پر نظر ڈالیں۔ ہر کام میں چھوٹی بڑی رکاوٹیں، کچھ ناکامیاں، اور وہ ناکامیاں حل ہونے کی بجائے مزید دباؤ میں ڈھل جاتی ہیں۔

ایسے میں اگر آپ نمازی ہیں تو نماز، ہنگاموں اور مسائل بھرے دن میں تھوڑے تھوڑے وقفوں سے، اس عظیم مشین کو آٹو میٹک سٹاپ مل جاتا ہے۔ جس میں صفائی، سکون، اور تازگی بھی ہے۔ جب کمانڈ کے تحت ورکنگ سٹاپ کرتی ہے تو رفتار زیرو یا کم ترین سطح پر آ جاتی ہے۔ مسائل کا ضرب کھانا رک جاتا ہے۔ ذہن ٹھنڈا ہوتا ہے، تازہ دم ہوتا ہے، اور پھر زیرو پوائنٹ سے دوبارہ تازہ دم ہو کر، پہلے پاور فل گیئر سے دوبارہ سفر کا آغاز کرتا ہے۔

رفتار کم ہو تو پاور بڑھ جاتی ہے، فریکشن کم ہو تو قوت فیصلہ مضبوط ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی رکاوٹ پہلے سے موجود ہو تو اب ذہن اسے زیادہ طاقت اور بہتر بصیرت کے ساتھ آسانی سے حل کر لیتا ہے۔ بعض اوقات تو حالت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ دوران نماز دماغ ایک مکمل ری اسٹرکچرنگ موڈ میں چلا جاتا ہے۔ پھر جب انسان دوبارہ معاملات دنیا کی طرف لوٹتا ہے تو کئی تکلیفیں، کئی الجھنیں، خودکار نظام کے تحت تحلیل ہو چکی ہوتی ہیں جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ ایک چمکتی آنکھوں، متبسم نرم لبوں سے چہکتے بچے کی طرح کھلا ہوا، ہشاش، ٹینشن فری، یہی نماز کرتی ہے۔

یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر عمل، انسان کے اندر ایک آٹو مرکزی نظام درستگی  (Central Corrective Mechanism) کو متحرک کرتا ہے۔ کمانڈ ایریا میں ہونے والی معمولی سی درستگی، پورے نظامِ بدن میں تازگی اور توازن دوڑا دیتی ہے۔ یوں دماغ کی سطح پر کی گئی ایک اصلاح، اعصاب، احساسات اور رویّوں تک منتقل ہو کر وجود کے ہر حصے کو ہم آہنگ کر دیتی ہے۔ اسی تسلسل میں نماز محض چند حرکات کا مجموعہ نہیں رہتی، بلکہ اذان کے بلاوے سے لے کر اصلاح کے حصول تک ایک مکمل نظام کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اذان پہلا سگنل ہے مشین کو یہ خبر دینے کے لیے کہ اب رفتار کم کرو، دنیا کے شور سے الگ ہو جاؤ۔ قیام توجہ کو یکسو کرتا ہے، رکوع انا کو جھکاتا ہے، سجدہ ذہن کو زیرو پوائنٹ پر لے آتا ہے، اور سلام کے ساتھ انسان ایک درست شدہ، متوازن اور تازہ نظام کے ساتھ دوبارہ زندگی میں داخل ہو جاتا ہے۔
یوں نماز، سنٹرل کمانڈ سینٹر کی اصلاح سے لے کر پورے وجود کی بحالی تک، اندرونی مرمت، ذہنی صفائی اور روحانی ری اسٹارٹ کا وہ مسلسل عمل ہے جو انسان کو بکھرنے نہیں دیتا، بلکہ ہر بار سنبھل کر آگے بڑھنے کی قوت عطا کرتا ہے۔
لہذا نماز محض عبادت نہیں، بلکہ ذہن کی صفائی، روح کی تازگی، اور وجود کی ازسرنو ترتیب کا خاموش مگر طاقتور نظام ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔