بھارت نے روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرادی، ٹرمپ کا پھر 7 طیاروں کا ذکر

بھارت نے روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرادی، ٹرمپ کا پھر 7 طیاروں کا ذکر

امریکی ٹیرف کے دباؤ نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں روس سے تیل کی خریداری نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی درآمد پر خوش نہیں تھے، تاہم اب یہ معاملہ بات چیت سے طے پا گیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت فوری طور پر روس سے تیل کی خریداری بند نہیں کرسکتا، مگر جلد ہی اس پر عمل درآمد شروع کر دے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے بھارت پر روسی تیل کی خریداری کے باعث 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، کیونکہ بھارت روس سے سستا تیل خرید کر منافع کے ساتھ فروخت کر رہا تھا، جو بالواسطہ طور پر یوکرین جنگ میں روسی معیشت کو سہارا دے رہا تھا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت اچھا تجارتی پارٹنر نہیں رہا، اور اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں روسی حملوں سے کتنے لوگ مارے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ جاری ہے لیکن امریکا مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں چین کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا، تاہم اس مقصد کے لیے امریکی فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔امریکی صدر نے بتایا کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں اور صدر پیوٹن کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اب تک وہ آٹھ بڑی جنگیں رکوا چکے ہیں، اور پاکستان کے وزیراعظم نے ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ "انہوں نے لاکھوں زندگیاں بچائیں۔"ان کے مطابق پاکستان اور بھارت ایک موقع پر جوہری جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے، جس دوران سات طیارے گرائے گئے تھے۔صدر ٹرمپ نے آخر میں امریکی کمپنی ایپل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں آئی فون کی تیاری بند کرے۔