حماس کو عسکری طاقت نئے فلسطینی ادارے کے سپرد کرنی ہوگی، تاہم انہیں سیاسی کردار کی اجازت دی جانی چاہیے
ہم نے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے اور جب تک اسے واپس نہیں لاتے، کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا،ناصر القدوہ
راملہ (آئی این پی ) فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے بھتیجے ناصر القدوہ چار سال بعد خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے مغربی کنارے واپس آ گئے ۔ انہوں نے غزہ کے بعد امن کے قیام کیلئے ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس میں حماس کو سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے اور فلسطینی حکومت کی اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق ناصر القدوہ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی میں بدعنوانی کے خاتمے اور صدر محمود عباس کی جماعت فتح میں گہرے اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا اعتماد بحال کرنا پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔فلسطینی رہنما نے کہا کہ ہم نے عوام کا اعتماد کھو دیا ہے اور جب تک اسے واپس نہیں لاتے، کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ناصر القدوہ 2021 میں فتح سے نکالے جانے کے بعد مغربی کنارے چھوڑ گئے تھے۔ انہوں نے اس وقت اپنی آزاد انتخابی فہرست بنائی تھی، جس پر محمود عباس نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے الیکشن ہی منسوخ کر دیا تھا۔ تاہم حال ہی میں صدر عباس نے انہیں عام معافی دے کر دوبارہ جماعت میں شامل کر لیا ہے