طلعت بٹ
پوری دنیا میں کسی بھی معاشرے کی ترقی پر اگر غور کیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ انکی خوشحالی اور ترقی میں کسی دوسرے ملک کی بجائے انکی حکومتوں اور عوام میں یکسوئی اور ہم آہنگی کا بہت عمل ہوتا ھے۔ جو کہ ایک بہترین قوم اور اعلیٰ معاشرہ بننے میں بہت اہم ثابت ہوتا ھے۔ چنانچہ حقیقی زندگی کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے میں اپنے پیارے پاکستانی احباب کی نذر اپنی رائے کا تبادلہ کرتا ہی رہتا ہوں۔ صبح کا اجالا رات کی تاریکی وقت کی چال اور یہ سانسوں کاسفر سب کچھ قدرت کے کرشموں کا بیک گراونڈ ہے مگر جب انسان فطرت سے بہت دور طلسماتی طرز کی ایجادات سامنے لاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ انسان اپنے سامنے ہونے والی تبدیلیوں سے متاثر ہو کر ہی سیکھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو قومیں اپنی قوت اور ہنر کا اندازا نہ کر سکیں وہ دنیا میں ترقی کے اعتبار سے سب سے پچھلی نشستوں میں ہی رہتی ہیں۔ جب میں اپنے پیارے دیس پاکستان کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے۔یہاں جس خطے میں ہم بستے ہیں اس کو دنیا کی پرانے اور ترقی یافتہ ممالک یا ریاستوں میں شمار کیا جاتا ہے جس طرح کہ ہزاروں سال قبل ہڑ پر اور موہنجو داڑو . اب
سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ تہذیب جو دنیا میں advance تدن اور فنون لطیفہ میں سب سے اچھی کارکردگی دے رہی تھی اسطرح زوال پزیر کیسے ہو گئی۔ اس پربات کسی دوسرے خط میں کریں گے۔ آج ہم موجودہ حالات پر اظہار خیال کریں گے سوچلتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف جہاں نہ تو اسلام نظر آتا ہیاور نہ ہی جمہوریت بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ جہاں نہ کوئی قانون اور نہ ہی کوئی انصاف ! تو پھر ان ساری کمزوریوں کے ساتھ ملک کس طرح چل رہا ہے ؟ اورکیسے تو کیا کبھی ہم 26 کروڑ عوام نے اس بارے میں یہ سوچا ہے کے ہمارا مستقبل کیا ہے ہماری آنے والی نسلوں کا کیا ہو گا ؟ ملک کو غداروں اور اقتدارکے لالچوں نے اپنے اپنے مفاد کیلئے کس کس طرح بیچ دیا۔ یوں لکھا ہے کہ انصاف کرنے والی ساری عدلیہ کسی طاغوتی طاقت کے زیر اثر ہے اور وہ مصنوعی طاقتیں جیسا فیصلہ چاہیں کروا دیتی ہیں۔ اسی طرح صحافت بھی کتنی کمزور ہو چکی ہے کہ چند کوڑیوں کی خاطر اپنا قلم چھوڑ کر زرد صحافت شروح کر دیتے ہیں میرابھی پاکستانی صحافیوں سے بڑا اچھا تعلق ہے اور اکثر و بیشتر مختلف ایشوز پر تبادلہ خیال بھی ہوتا رہتا ہے مگر اندر کی بات کھولنے سے ڈرتے ہیں۔ rooland
law کا فقدان معاشرتی برائیوں کی وجہ بنتا ہے۔ حکومت کسی پارٹی کی ہو مگر قانون تو سب کے لئے برابر ہے۔ پاکستان میں فیصلے جج صاحبان کی بجائے وکیلاور منسٹر کرتے ہیں تو انصاف نا پید ہو جائے گا چنانچہ قانون اور انصاف پر کام ہونا بہت ضروری ہے۔ مگر اس کام کے لئے تیاری کرنی پڑتی ہے۔ اب باتکرتے ہیں تعلیم و تدریس کی تو ملک میں جو نظام تعلم چل رہا ہے اس سسٹم کے ساتھ قوم کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی کیونکہ 20فیصد اسلامی 20فیصد وی آئی پی اور 60فیصد سر کاری غیر مفید ثابت شدہ نظام تعلیم ہے۔ اب آپ خود سوچیں کہ جو طالب علم وی آئی پی کلچر میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہی آگے چل کر اداروں اور دیگرذمہ داریوں کو سنبھالتے ہیں یہ رنگ اشرفیہ طرز کا ہے جہاں مال و زر کی کوئی کمی نہیں ہر طرح سے خوشحال رنگ یہ ہی ہے جس کو کوئی چیلنج نہیں اور باقی سارا کچرادو قسم کے رنگوں میں پروان چھڑتا ہے پہلاوہ جو مدرسوں میں اسلامی تعلیمات کی نظر ہوتا ہے وہ رنگ تو اس دنیا سے الگ تھلگ ایک مست دنیا میں سہانے
خواب دیکھتے ہوئے جنت کی تلاش میں لگ جاتا ہے دوسرا وہ سرکاری سکولوں والا رنگ جو کبھی بھی اپنی کتابوں پر یقین نہیں رکھتا انتہا کا کابل اور مجرم ذھن کامالک ہے۔ ہمارے ملک میں ملاوٹ منشیات اور رشوت کے بارے میں کوئی بھی نہیں سوچتا سیاسی جماعتوں کو اپنے ووٹوں اور سیٹوں کا فکر ہے حکمران طبقہ ہر صوبے میں مافیا کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر قسم کے جرم میں خود بھی اور سارا سیاسی ٹولہ بھی شامل ہے۔ میرے عزیز ہموطنوں میں عرصہ دراز سے ملک سے باہر مگر آپ کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں ہوں اور کافی حد تک آپ کی محفلوں میں بھی شامل رہتا ہوں۔ جس طرح سے میرے پیارے ملک کو تباہ و برباد کیا گیاہے اس کا حساب کون لے گا کیا ہم اسی طرح بکھرے ہوئے ریت کے ذروں کی طرح سمندر کے کنارے پڑے رہیں گے اور ایک لہر کا انتظار کرتے رہیںگے جو آکر سب کچھ بہا کر لے جاتی ہو * نہیں نہیں کبھی نہیں ہمیں خود کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا آخر کب تک زندہ لاشیں بن کر ہم ان درندوں کے ہاتھوں برباد ہوتے رہیں گے اسطرح مفلسی اور تنگدستی میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ ملک کے حالات جس مقام پر ہیں وہاں پر عوامی انقلابی اور ترقی کی سوچ کے ساتھ ملک کی حفاظت کیلئے تیار رہنا ہے میرے دوستو میرا پیش کیا ہوا پروگرام آزمایا ہوا ہے۔ جس کی مثال انقلاب فرانس اور ماؤ کا انقلاب ہے عوام سے زیادہ طاقت
کسی ادارے میں نہیں ہوتی اور جب انسانوں کا سمندر ہو تو کوئی بھی طاقت بنگا نہیں لے سکتی۔ پاکستان دنیا بھر میں 6th پاور ہے مگر حالات ایسے ہیں جیسیاتھو پیا اور کینیا ہو۔ پاکستان کو خوشحال کرنے کے لئے ملک سے محبت کرنے والے دوستوں کو تلاش کرنا ہوگا اس طرح تو ان ظالموں اور درندوں سے جان نہیں چھوٹے گی آپ کے ملک کو لوٹنے والے لیڈر اور محافظ بنے ہوئے ہیں بہت ہو چکا میرے پاکستانیوں اپنی زندگی اور اپنے خاندان کی بقا کے لئے اس نظام میں تبدیلی ضروری ہے کیونکہ جہاں انصاف دستیاب نہ ہو عزت محفوظ نہ ہو تو پھر کس چیز کا انتظار کوئی دوسرا آئے اور پہلے کی طرح آپ کی عزت اور غیرت کا تماشہ بنائے۔ ہم نے 75 سالوں میں کچھ نہیں سیکھا۔ جب ریاست آپکے خاندان قبیلہ اور ملک کی پرورش نہ کر سکے تو نظام بدلنے کی ضرورت ہوتی ھے پوری قوم کو ایک ہونا چاہیے اور جو آپ کی عزت کی طرف ہاتھ بڑھائے اس کے ہاتھ کاٹ دو۔ پاکستان جتنا کسی دوسرے کا ہے آپکا بھی اتنا ہی ہے اور ہر صوبہ پاکستان کا حصہ ہے اقتدار کے بھوکے حکمرانوں نے ساری قوم کو مختلف طریقوں سے انتشار کا شکار بنا دیا ہے ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا قوم کے 60فیصدنوجوان ہی اس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ مزید کیا دیکھنا پسند کریں گے جب آپ کو اور آپ کی عزت کو سر عام اٹھا کر تھانے میں بند کر دیں گے۔ دنیا جانتی ہے کہ یورپ میں انقلاب عوام لے کر آتی ہے چین جو منشیات کی عادی قوم تھی ایک ہی جھٹکے میں انقلاب حاصل کر چکی ہے۔ آج آپ کے پاس بہت اچھا موقع ہے اور جس طرح قوم پر ظلم ڈھایا جا چکا ہے ایک ہی آوازان ظالموں اور خداروں کو خاموش کر سکتی ہے کون نہیں جانتا کہ پاکستان کا دوست کون ہے اور کس نے پاکستان کو لوٹا ہے اب اگر کوئی غلط فہمی باقی بچ گئی ہو تو اگلے دور کے لئے اگلی بربادی اور غلامی کے لئے خاموش رہ کر اپنی عزتوں اور غیرتوںکا حشر دیکھ لینا آپ کو زندہ رہنے کا حق بھی نہیں ہو گا سارے معاملات غداروں اور ملک دشمن طاقتوں کے ہاتھ میں ہونگے۔ پاکستان کو نیلام کرنے لئے خریدار بھی خود ہی پیدا کریں گے اپنی زمینوں اور مٹی کو نیلام ہونے سے بچالیں یہ سنہری دور پھر کبھی میسر نہ ہوگا۔ اردو سمجنے والے میرے ہموطن میرے اس خط کو بار بار پڑھیں اور محسوس کریں کہ کوئی آپ کے لئے اور آپ کے
مستقبل کی خاطر سوچتا ہے وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا بلکہ انتظار میں وقت بیت جاتا ہے۔ حال دل بڑا طویل ھے بہت کچھ کہنا چاہتا ہے سو اگلے کالم میں مزید کھل کر بات ہوگی۔ پردیس سے آپکے سنگ !