سکریننگ میں تاخیر ہوئی،ریکارڈ میں ردوبدل کا انکشاف،انتظامیہ معاملہ دبانے کیلئے سرگرم
ملتان(خصوصی رپورٹ)نشتر ہسپتال کیڈائیلسز یونٹ میں ایڈز کے25 مریضوں کا انکشاف ہو ا ہے ، دوسرے روز بھی انکوائری ٹیمیں نشتر ہسپتال پہنچ گئیں جمعہ کے روز بھی ایڈز کنٹرول پروگرام،ہیلتھ کئیر کمیشن اور سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کی جانب سے بھیجی گئی انکوائری کے لئے ٹیموں نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان پہنچ کرڈائیلسز کے مریضوں کا تمام ریکارڈ چیک کیا ،سربراہ نیفرالوجی وارڈ و رجسٹرار نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر غلام عباس اورنشتر انتظامیہ کی جانب سے واقعہ کے اصل حقائق چھپانے کی مبینہ کوشش ،ذرائع کے مطابق اس معاملے میں سینئر ڈاکٹرز کی جانب سے غفلت سامنے آگئی ہے، شعبہ نیفرالوجی میںڈائیلسز کیلئے رجسٹرڈ مریضوں کیلئے طے شدہ ایس او پیز پر عملدر آمد نہ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق 6 ماہ بعد بھی ایچ آئی وی ایڈز کیلئے سکریننگ ٹیسٹ نہ کروائے گئے وارڈ عملے کا کہنا ہے کہ وارڈ میں سینئر ڈاکٹرز بشمول پروفیسر تا سینئر رجسٹرار کے احکامات پر سکریننگ ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں ،سینئرز کی مجرمانہ غفلت کے باعث سکریننگ طے شدہ ٹائم پر نہ ہوسکی متعدد مریضوں کی فائلیں ادھوری ،ریکارڈ میں ردوبدل سامنے آگیا ،کئی زندگیاں دا ئو پر لگ گئیں ،نشترانتظامیہ معاملہ دبانیکیلئے کوشاں وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ایم ایس اور رجسٹرار معاملے پر خاموش، میڈیا سے کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز سیکرٹری ہیلتھ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے بھی نشتر ہسپتال کا دورہ کیا ٹیم نے وارڈ سات اے کے پرانے ڈائیلسز یونٹ اور لیبارٹری کا بھی دورہ کیا اور وی سی آفس میں ڈائلسز کے مریضوں کا تمام ریکارڈ منگوا کر چیک کیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انکشاف ہوا ہے کہ ماہ فروری 2024 تک نشتر ہسپتال ملتان میں ایچ آئی وی ایڈز کا کوئی مریض رجسٹرڈ نہیں تھا اور شیڈول کے تحت ڈائلسز کے رجسٹرڈ مریضوں کے چھ ماہ کے بعد سکریننگ اور ٹیسٹ دوبارہ ہونے تھے لیکن ان مریضوں کے ٹیسٹ ستمبر کے آخر اور اکتوبر میں کئے گئے اور ان کی نئی سکریننگ کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہڈائیلسز کروانے والے 25 مریض ایسے ہیں جن میں پہلے ایچ آئی وی ایڈز کا مرض نہیں تھا اور نئی سکریننگ میں ان کو یہ مرض لاحق ہوناثابت ہوا جسکے بعد ہسپتال انتظامیہ نے ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کے لئے تین مشینوں کا الگ انتظام کیا۔