نیویارک: امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت اور ممکنہ امن معاہدے کی خبروں نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں زبردست مثبت رجحان پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں تیزی جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور توانائی کی عالمی سپلائی کے استحکام کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ اسی امید کے باعث پیر کے روز امریکی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا۔S&P 500 ایک اعشاریہ سات فیصد اضافے کے ساتھ اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ اسی طرح NASDAQ Composite میں تین اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ Dow Jones Industrial Average تقریباً صفر اعشاریہ نو فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کا اعتماد اس وقت بحال ہوا جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق مثبت اشارے سامنے آئے، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی توانائی سپلائی کے معمول پر آنے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ جاپان کا نکئی 225 انڈیکس مختصر وقت کے لیے تاریخی سطح 70 ہزار پوائنٹس کے قریب پہنچ گیا، جبکہ جنوبی کوریا، تائیوان اور دیگر ایشیائی مارکیٹس میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ادھر عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد قیمت 83 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی۔ یہ سطح حالیہ کشیدگی کے دوران بلند قیمتوں کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔تاہم توانائی ماہرین اور شپنگ انڈسٹری کے مطابق صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے، اور عالمی شپنگ اداروں کے مطابق اب بھی سینکڑوں جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کے منتظر ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سرمایہ کاری کے شعبے میں مزید استحکام اور بہتری کا امکان ہے۔