جہاز مالکان آبنائے ہرمز میں واپسی سے ہچکچا رہے ہیں، بڑی شپنگ کمپنی کی وارننگ

جہاز مالکان آبنائے ہرمز میں واپسی سے ہچکچا رہے ہیں، بڑی شپنگ کمپنی کی وارننگ

ٹوکیو/کوپن ہیگن: امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی فوری طور پر ممکن نظر نہیں آتی اور عالمی شپنگ انڈسٹری کے مطابق اس عمل میں کئی ہفتے بلکہ زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

جاپان کی بڑی شپنگ کمپنی Mitsui O.S.K. Lines کے چیف ایگزیکٹو جوتارو تامورا نے خبردار کیا ہے کہ صرف معاہدے کے اعلان سے صورتحال معمول پر نہیں آئے گی، بلکہ زمینی حقائق میں واضح بہتری ضروری ہے۔ ان کے مطابق شپنگ کمپنیوں کو اس وقت تک اس اہم آبی گزرگاہ میں دوبارہ مکمل طور پر واپسی کا فیصلہ کرنے میں احتیاط برتنی ہوگی جب تک سکیورٹی صورتحال پر مکمل اعتماد بحال نہ ہو جائے۔آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران اس راستے سے بحری نقل و حرکت میں نمایاں کمی آئی تھی، جس کے باعث کئی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہاز متبادل راستوں پر منتقل کر دیے تھے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ معاہدے کے بعد عالمی تیل منڈی میں کچھ بہتری اور قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم اصل چیلنج اس آبی گزرگاہ میں سکیورٹی خطرات کا مکمل خاتمہ ہے۔

 شپنگ کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ انہیں صرف سیاسی اعلان نہیں بلکہ عملی طور پر محفوظ اور واضح بحری راستہ درکار ہے۔رپورٹس کے مطابق متعدد بین الاقوامی شپنگ ادارے اور انشورنس کمپنیاں ابھی تک صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں اور فوری طور پر اپنے جہازوں کو دوبارہ اس راستے پر بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔سمندری ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی مکمل بحالی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا متعلقہ فریقین معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرتے ہیں، سکیورٹی خدشات ختم ہوتے ہیں اور انشورنس لاگت معمول پر آتی ہے یا نہیں۔

اس سے قبل کشیدگی کے دوران اس آبی گزرگاہ میں ٹریفک میں شدید کمی واقع ہوئی تھی، جس نے عالمی توانائی سپلائی چین اور تیل کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالا تھا۔ ماہرین اب بھی محتاط ہیں اور کہتے ہیں کہ مکمل بحالی میں ہفتوں سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔