بھارتی نوجوانوں میں بیروزگاری اور تعلیمی نظام پر تشویش

نئی دہلی (آن لائن) بھارت میں نوجوانوں کے درمیان بے روزگاری، تعلیمی نظام اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں مختلف قسم کی سماجی اور آن لائن تحریکوں کے ابھرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق نوجوانوں کے ایک حصے میں سیاسی اور علامتی نوعیت کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔عالمی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں امتحانی نظام، روزگار کے مواقع اور تعلیمی اصلاحات جیسے مسائل پر نوجوان طبقہ زیادہ آواز اٹھا رہا ہے۔ ان میں سے کچھ تحریکیں آن لائن پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کے ذریعے منظم ہو رہی ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت جیسے بڑے ملک میں نوجوان آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ، روزگار کے محدود مواقع اور تعلیمی نظام پر سوالات سیاسی اور سماجی سطح پر نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں مستقبل میں سیاسی جماعتوں اور پالیسی ساز اداروں کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے تحفظات کو سننے اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سماجی بے چینی میں اضافہ نہ ہو