تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ "ہمیں اسرائیل جیسی کینسر پھیلانے والی رجیم کو ختم کرنا ہوگا۔"
پریس بریفنگ کی تفصیلات:
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:"ہمیں امید ہے کہ دنیا اس جنگ میں درست سمت میں کھڑی ہوگی۔"ایران اس وقت تمام مسلم ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ خطے میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ردعمل سامنے لایا جا سکے۔
اسرائیل کے خلاف عالمی مطالبہ:
ترجمان کا کہنا تھا کہ:"عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ اسرائیل کو حملے روکنے پر مجبور کرے۔"انہوں نے اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کو صرف ایران ہی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جنگ قرار دیا۔
ایران میں شہریوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ:
ترجمان نے الزام عائد کیا کہ:صیہونی ریاست ایران کے اندر عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں کئی معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
امریکا سے تعلقات اور جوہری مذاکرات:
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے عندیہ دیا کہ:"امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات ابھی بھی ممکنات میں سے ہیں۔"انہوں نے واضح کیا کہ ایران سفارتی دروازے بند نہیں کر رہا، مگر اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف دوٹوک مؤقف رکھنا بھی ضروری ہے۔
تجزیہ:
ایرانی وزارت خارجہ کے تازہ بیانات:اسرائیل کے خلاف شدت اختیار کرتی ایرانی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ایران یہ بیانیہ دنیا کے سامنے لانا چاہتا ہے کہ یہ جنگ صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی مسئلہ بن چکی ہے۔جوہری مذاکرات کے امکان کا ذکر ایک بار پھر سفارتی آپشن کو زندہ رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔