اسلام آباد سے تازہ ترین خبر کے مطابق، استنبول میں جاری افغان طالبان سے مذاکرات کے دوران پاکستان نے اپنے شواہد پر مبنی مطالبات ثالثوں کے حوالے کیے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق، پاکستانی وفد کی قیادت قومی سلامتی کے مشیر عاصم ملک کر رہے ہیں اور یہ وفد استنبول میں موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات جاری ہیں اور نتائج کے بارے میں تبصرہ نہیں کریں گے۔اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنی منطقی معلومات ثالثوں کے ساتھ شیئر کی ہیں، جو کہ فتنۃ الخوارج سے متعلق ہیں، اور مطالبات سادہ، منصفانہ اور شواہد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مذاکرات ثالثوں کی نگرانی میں ہو رہے ہیں، اور چمن بارڈر پر فائرنگ کے افغان طالبان کے دعوے کو مسترد کیا ہے، اور کہا کہ فائرنگ دراصل افغان طالبان کی طرف سے ہوئی اور پاکستان نے جواب دیا۔ترجمان نے کہا کہ سیکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر، افغانستان کے ساتھ بارڈرز بند رہیں گے اور اس حوالے سے فیصلے سیکیورٹی حالات کے مطابق کیے جائیں گے۔
انہوں نے شمالی افغانستان میں زلزلے سے ہونے والے نقصانات پر اظہار تعزیت کیا۔اس کے علاوہ، ترجمان نے غزہ میں امن فوج بھیجنے کے فیصلے کے بارے میں بتایا کہ یہ پارلیمنٹ کرے گی، اور پاکستان نے کسی خفیہ ملاقات یا رقم کی فراہمی کی انٹیلیجنس افواہوں کو مسترد کیا۔ انہوں نے بھارتی میڈیا کی خبروں کو حقائق کے منافی قرار دیا اور ہندو یاتریوں کے پاکستان داخلے سے متعلق خبروں کو بھی غلط قرار دیا، کہا کہ پاکستان نے 2400 ہندو یاتریوں کو ویزے جاری کیے ہیں اور کسی داخلے میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔