حملوں میں امریکا برابر کا شریک ،خمیازہ بھگتنا ہوگا: ایرانی وزیر خارجہ،ایسا جواب دیں گے جس کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا: اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی

تہران پرفضائی حملے، جوہری پروگرام سے منسلک عمارتوں، وزارتِ دفاع کو نشانہ بنایاگیا)ایران کی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش(100سے زائد میزائل داغ دئیے،متعدد عمارتیں کھنڈر بن گئیں
ایرانی حملوں سے وسطی اسرائیل دھماکوں سے گونج اٹھا،10اسرائیلی ہلاک،200سے زائد زخمی، تل ابیب اور حیفا میںشدید خوف وہراس پھیل گیا، اسرائیلی جنگی کابینہ کا ہنگامی اجلاس،اسرائیلی شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت
 اسرائیلی فوج کا پاسدارانِ انقلاب سمیت ایرانی افواج کے 20سے زائد فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنا نے کادعویٰ، حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ،نیتن یاہو، براہ راست جنگ میں شمولیت کی درخواست ،امریکا نے مستردکردیا  
 60فیصد یورینیم افزودہ کرنے کا عمل جاری رکھا جائے گا، پارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کا حملہ خطرناک عمل تھا،آئی اے ای اے مذمت کرے، ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا جو اسے جوہری توانائی کے حصول سے روکے،عباس عراقچی کی پریس کانفرنس 
تہران ؍تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک ؍آئی این پی؍آن لائن )ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی تیسرے روز میں داخل ہوگئی ،دونوں ممالک کے ایک دوسرے پر میزائل اور فضائی حملے جاری ہیں،اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے گذشتہ رات گئے ایک بار پھر تہران پر فضائی حملے کیے اور ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں وزارتِ دفاع بھی شامل ہے ، ایرانی دارالحکومت تہران میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیںجبکہ ایران نے اسرائیل پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر نئی میزائلوں کی بارش کر دی ، میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق 100سے زائد میزائل تل ابیب اور حیفا پر داغے گئے، جبکہ وسطی اسرائیل میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ۔ ایرانی میڈیا کے مطابق میزائلوں کے حملے کے بعد تل ابیب اور بیت المقدس میں سائرن کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس کی وجہ سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ۔تل ابیب میں دھماکوں کے بعد دھویں کے بادل چھا گئے، میزائل حملوں میں اسرائیلی جوہری تنصیبات ڈیمونا کو بھی نشانہ بنایا گیا۔مقبوضہ شہر حیفہ، تل ابیب اور اور بیت المقدس میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، حملے میں اسرائیل کی کثیر منزلہ عمارت بھی تباہ ہو گئی۔ایرانی میڈیا نے سکیوٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل پر عماد، غدر اور خیبرشکن میزائل کا استعمال کیا گیا۔ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حیفہ میں اسرائیل کا ایک بڑا آئل ڈپو اس حملے میں تباہ ہو گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے صبح سویرے اسرائیل پر ایک اور بڑا حملہ کیا، تل ابیب اور شمالی شہر حیفہ پر بیلسٹک، ہائپر سونک میزائلوں اور ڈرونز سے اہم تنصیبات پر حملے کیے گئے جس کے بعد متعدد عمارتیں کھنڈر بن گئیں۔سپرسانک میزائل پر 7ٹن بارودی مواد لدا ہوا تھا۔ایرانی حکام کے مطابق شمالی شہر حیفہ میں توانائی ڈھانچہ، اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو تیل فراہم کرنے والی تنصیبات نشانہ بنائی گئیں۔ادھر اسرائیل نے ایرانی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے شمالی حصے میں ایران کے جنگی طیارے دیکھے گئے ہیں۔اسرائیلی حکام کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں ہے اور 200سے زائد زخمی ہیں ۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد سے 35شہری لاپتا بھی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ تل ابیب کے قریب شہر بیت یام میں چھ افراد ہلاک ہوئے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ سات افراد لاپتا ہیں اور امدادی ٹیمیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایمرجنسی سروسز اور مقامی ہسپتال کے مطابق شمالی عرب شہر طمرہ میں بھی چار افراد ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ میزائلوں حملوں کے سائرن بجنے کے بعد اسرائیلی شہریوں کو بنکرز میں جانے کی ہدایات دی گئیں۔ ادھر ایران کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہران کا آئل ڈپو اور تہران کے فیول ٹینک نشانہ بنے، تاہم وزارتِ تیل کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے حملہ تہران کے نوبنیاد علاقے میں وزارتِ دفاع کی ایک ہیڈ کوارٹر عمارت پر کیا گیا جس کے نتیجے میں عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تاہم جانی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر پہلا نمایاں حملہ کیا ہے، ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے اتوار کو بتایا کہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں آگ لگنے کے بعد ایران نے دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ سائوتھ پارس میں جزوی طور پر پیداوار معطل کر دی ہے۔جنوبی ایران کے صوبہ بوشہر کے ساحل کے قریب واقع علاقہ سائوتھ پارس کہلاتا ہے اور ایران کی زیادہ تر گیس یہیں پیدا ہوتی ہے۔ ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 78 افراد شہید اور 320 سے زائد زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ آذربائیجان صوبے میں 31 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 30 فوجی اور ریڈ کراس کا ایک رکن شامل ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کا سراغ لگا لیا ہے ا ور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق مطابق وہ نہ صرف ایران سے آنے والے میزائلوں کو روکنے میں مصروف ہیں بل کہ تہران میں مختلف عسکری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں، جن میں ایران کے درجنوں جوہری پروگرام اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایک تازہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران پر جاری فضائی حملوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب سمیت ایرانی افواج کے 20سے زائد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے۔تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ایرانی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ حملوں کی نوعیت اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پژیشکیان نے سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملے بند نہ کیے تو ایران اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خیبر میزائلوں سے حیفہ اور تل ابیب کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیل پر بدر اور عماد میزائل بھی داغے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کو ایسا جواب دیں گے جس کا ان کی قیادت نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا اور ہم آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت کے ہر ہدف کو نشانہ بنائیں گے جب کہ بہت جلد آپ تہران کے آسمانوں پر اسرائیلی فضائیہ کے طیارے دیکھیں گے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے 2دنوں میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات کو سنگین نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ایران پر اب تک کیے گئے حملے ان کارروائیوں کے مقابلے میں کچھ نہیں جو آنے والے دنوں میں ہوں گی۔اس دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی زیرصدارت جنگی کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں اور دفاعی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ ایران کے ہر حصے پر حملے کیے جائیں گے اور دشمن کو اس کے اقدامات کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں بتانا چاہتے کہ آیت اللہ خامنہ ای ہمارا نشانہ ہیں۔اسرائیلی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر حملے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ 
دوسراانٹرو لیڈ

تہران (آئی این پی )ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے نئی سرخ لائن عبور کرلی ہے، اسرائیل کے حملوں میں امریکا برابر کا شریک ہے اور اسکا خمیازہ بھگتنا ہوگا،انہوں نے واضح کیا کہ 60 فیصد یورینیم افزودہ کرنے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہاکہ امریکی آشیر باد کے بغیر اسرائیل کا ایران پر حملہ ممکن نہیں تھا،اسرائیلی حملے میں امریکا کے ملوث ہونے کے کافی شواہد موجود ہیں، امریکا نے مکتوب بھیج کر اسرائیلی حملے میں شریک نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کا حملہ خطرناک عمل تھا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی ایران کے نطنز ری ایکٹر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرے، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا جو اسے جوہری توانائی کے حصول سے روکے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے اہم ایرانی عہدیدار کو شہید کرکے جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، اسرائیلی حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لینا چاہیے، اسرائیل نے جوہری تنصیبات پرحملہ کرکے ریڈلائن کراس کی، ہمیں اسرائیلی معاشی مفادات پر حملوں کے لیے مجبور کیا گیا۔عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران جنگ کو طول نہیں دینا چاہتا،اسرائیل کیخلاف جوابی حملے اپنے دفاع میں کیے، ہم نہیں چاہتے کہ یہ تنازع دیگرممالک تک پہنچے، اگر مجبور کیا گیا تو تہران جنگ کو دیگر ممالک تک بڑھانے پر غور کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملے سے تنازع پورے خطے میں پھیل جائے گا۔عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام پر کاربند ہے، حملہ ظاہرکرتاہے کہ اسرائیل ایران کاعالمی جوہری معاہدہ نہیں چاہتا، انہوں نے واضح کیا کہ ایران 60 فیصد یورینیم افزودہ کرنے کا عمل جاری رکھے گا۔