سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
والدین کی خدمت اسلام کے اخلاقی تصورمیں بلندمقام رکھتی ہے۔بہت سے مسلمان خاندان اسے محض سماجی روایت نہیں،دینی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ایک بزرگ کاگھرمیں موجود ہونابچوں کیلئے زبان،تاریخ،یادداشت اورشفقت کاایساسرچشمہ بن سکتاہے جوکسی نصابی کتاب میں پورانہیں سماتا۔وہ بچے کوسکھاتاہے کہ انسان کی قدراس کی کمائی،جوانی یاطاقت ختم ہونے سے ختم نہیں ہوتی۔
مسلمان لڑکیوں کی تعلیم پرتوجہ ایک ایساموضوع ہے جسے سنجیدگی سے اجاگرکرناچاہیے۔کسی برادری کے بارے میں اگرصرف پابندی اور محرومی کی تصویریں دکھائی جائیں تواس کی طالبات،اساتذہ،محققین اورپیشہ ورخواتین کی محنت اوجھل رہ جاتی ہے۔ایک باپ جواپنی بیٹی کیلئے کتاب خریدتاہے،ایک ماں جواس کی پڑھائی کیلئے وقت نکالتی ہے،اورایک لڑکی جورکاوٹوں کے باوجودآگے بڑھتی ہے،یہ سب مسلم معاشرت کی حقیقی صورتوں میں شامل ہیں۔
مزیدتحقیق کیلئے عمر،جنس،نسل،خاندانی آمدنی اورنقل مکانی کی تاریخ کوساتھ رکھناہوگا۔آج اسکول جانے والی بچیوں کے تعلیمی امکانات کوکئی دہائیاں پہلے برطانیہ آنے والے افراد کی رسمی قابلیت کیساتھ خلط ملط نہیں کرناچاہیے۔اسی طرح کسی علاقے میں پاکستانی یابنگلہ دیشی نژادطلبہ کے نتائج سے اگرتمام مسلمانوں کانتیجہ اخذنہیں کیاجاسکتاتوتحسین کی بجائے تحقیر کے زمرے میں ڈالنے سے بھی گریزکی ضرورت ہے: نسل، وطن اور مذہب ایک دوسرے کے متبادل الفاظ نہیں۔
مسلم بچیوں کی کامیابی کوان کی آزادی اورامکانات کے ساتھ دیکھناہوگا۔ایک کامیاب طالبہ کاقصہ کسی دوسری طالبہ کی رکاوٹ کومٹانہیں دیتا،اورکسی گھرمیں رکاوٹ کی خبرلاکھوں
گھرانوں کی امنگوں کوباطل نہیں کرتی۔تعلیمی انصاف کیلئے داخلہ،حاضری،نتائج،اعلی تعلیم تک رسائی اورملازمت میں منتقلی،سب کوالگ الگ جانچناچاہیے۔والدین اوراساتذہ کی ملاقاتیں تبھی معنی خیزبنتی ہیں جب زبان،اوقات اورکام سے چھٹی لینے کی مشکلات کابھی لحاظ کیاجائے۔رپورٹ کے سروے میں اخلاقی آرا،شرعی اصولوں،قانون اورتوہین کے جواب سے متعلق سوالات بھی پیش کیے گئے ہیں۔ان جوابات کوسمجھنے کیلئے سوال کے لفظ،جواب کے ممکنہ معنی اورشہری عمل میں فرق رکھناہوگا۔کوئی شخص اپنے مذہب کی اخلاقی تعلیم پریقین رکھتاہواورساتھ ہی دوسروں کے قانونی حقوق کااحترام کرتاہو؛یہ دونوں باتیں لازماًمتضادنہیں۔اسی طرح کسی قانون پرپرامن تنقیدکرنا،اسے بزورطاقت بدلنے کی کوشش کرنے کے برابرنہیں۔
لیکن تشددکے معاملے میں زبان بالکل صاف ہونی چاہیے۔مذہب،پیغمبر،مقدس کتاب یاکسی بھی محترم ہستی سے متعلق شدیدرنج بھی کسی انسان کودھمکانے یانقصان پہنچانے کا جواز نہیں بن سکتا۔مسلمان شہری اختلاف کااظہار،احتجاج اورقانونی مطالبہ کرسکتاہے؛دوسروں کوبھی اسلام پرتنقیداوراپنے عقیدے کے اظہارکاحق حاصل ہے لیکن عقیدے کی توہین کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔امن اسی وقت قائم رہے گاجب قانون کسی کے خوف کے تابع نہ ہواورمذہبی حساسیت کامذاق اڑانابھی شہری شرافت کامعیارنہ سمجھاجائے۔
اسی اصول کادوسرارخ مسلمانوں کاتحفظ ہے۔کسی مسلمان عورت کواس کے لباس،کسی مردکواس کے نام،یاکسی مسجدکوچندمجرموں کے فعل کاجوابدہ بنانابھی آزادی نہیں۔اسلام پر تنقیداورمسلمانوں کے ساتھ امتیازمیں فرق کرناممکن ہے،بلکہ ضروری ہے۔مضبوط جمہوریت اس فرق سے گھبراتی نہیں؛وہ اسے اپنے قانون اورعوامی گفتگومیں واضح کرتی ہے۔
رپورٹ کے اعدادپڑھتے ہوئے ایک اوراحتیاط بھی لازم ہے۔الگ الگ سال،الگ سوال اورالگ نمونے والے سروے کی شرحیں ساتھ رکھنے سے بظاہرسیدھاموازنہ بنتاہے ،مگر سوال کی عبارت بدل جائے توجواب کامطلب بھی بدل سکتاہے۔کسی مذہبی متن کونقصان پہنچانے کے خلاف قانون کی رائے،کسی انسان پرحملے کی اجازت نہیں۔دوسری طرف اگر کسی جواب دہندہ نے واقعی توہین کے بدلے تشددکودرست سمجھاہے تویہ جواب پریشانی کاباعث ہے،خواہ اس کی مذہبی شناخت کچھ بھی ہو۔
یہاں ایک دوررس سوال سامنے آتاہے:کیامسلمانوں کوبرطانیہ کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی میسرہے؟اس کاجواب محض ایک عددسے نہیں نکلے گا۔نمائندگی پارلیمان کی نشستوں میں بھی ہے،مقامی کونسلوں،تعلیمی اداروں،پولیس،ذرائع ابلاغ اوران مقامات پربھی جہاں پالیسی بنتی ہے۔پھریہ دیکھناہوگاکہ وہاں پہنچنے والوں کواپنی پوری برادری کا خود ساختہ ترجمان تونہیں سمجھ لیاجاتا،جبکہ برادری کے اندر عورتوں،نوجوانوں اورمختلف فکری رجحانات کی آوازیں پس منظرمیں رہ جاتی ہیں۔
مردم شماری میں انگلستان اورویلز کے 65 فیصد لوگوں نے خودکومسلمان بتایاتھا۔اس سے سیاسی شرکت کاسوال ضروراٹھتاہے،مگراسے برطانیہ بھرکی ہرمنتخب نشست کاخودکارحق سمجھ لینابرطانوی انتخابی نظام کی پیچیدگی کومختصرکردے گا۔حلقوں کی جغرافیائی تقسیم، جماعتوں کی امیدوارنامزدگی،ووٹرکی ترجیحات اورانتخابی طریقہ،سب نتائج پراثراندازہوتے ہیں۔ مزیدیہ کہنادرست نہیں ہوگا کہ مسلمانوں کی آبادی ایک سیاسی رائے نہیں رکھتی؛وہ دوسری برطانوی آبادیوں کی طرح مختلف معاشی مفادات اورسیاسی نظریات رکھتی ہے۔
اس کے باوجودنمائندگی کے راستے میں رکاوٹیں ہوں توانہیں معمول سمجھ کرقبول نہیں کیاجاسکتا۔کیااہل امیدواروں کوبڑی جماعتوں میں مناسب موقع ملتاہے؟کیامسلمان خاتون صرف اپنے حجاب پرسوالوں کاجواب دیتی رہ جاتی ہے،جبکہ اس کے تعلیم یاصحت سے متعلق خیالات سنے ہی نہیں جاتے؟کیاکسی امیدوارکومسلمان آبادی والے حلقے میں تو موزوں سمجھاجاتاہے،مگرکسی دوسرے حلقے میں نہیں؟یہ قابلِ تحقیق جمہوری سوالات ہیں۔ان کے جواب کیلئے امیدواروں،منتخب نمائندوں اورتقرریوں کے اعدادکے ساتھ جماعتوں کے عملی فیصلوں کوبھی دیکھنا ہوگا۔
جمہوریت کاقصوراس کے بنیادی وعدے میں نہیں؛قصوراس وقت پیداہوتاہے جب اس وعدے کے علمبرداراسے محدودکردیتے ہیں۔ووٹ کو قبول اورووٹرکی آوازکومشکوک سمجھنا دیرپاسیاسی اعتمادپیدانہیں کرسکتا۔ہرشہری کوانتخاب لڑنے،اختلاف کرنیاوراپنے مسئلے کوپارلیمان تک پہنچانے کاحق ہے۔کسی مسلمان کاغزہ،کشمیر،تعلیم،رہائش یاشہری حقوق پر سیاسی مؤقف رکھنااسے فی نفسہ انتہاپسندنہیں بناتا۔اس کے مؤقف اورطریق کارپردوسروں ہی کی طرح تنقیدہوسکتی ہے،مگراس کی شہری حیثیت ہربارنئے سرے سے ثابت کرانے کی چیزنہیں۔
برطانوی مسلمانوں سے قانون کی پابندی، دوسروں کے حقوق کا احترام اور جرائم کے خلاف تعاون مانگنا بالکل درست ہے۔ مگر وفاداری کا ثبوت صرف ان ہی سے بار بار طلب کرنا، گویا باقی شہری پیدائشی طور پر اس امتحان سے مستثنی ہوں، مشترک قومیت کو کمزور کرتا ہے۔ کسی ملک سے تعلق کا اظہار روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے: اس کی زبانیں سیکھنے، اس کے اداروں میں حصہ لینے، اپنے پڑوسی کے کام آنے، قانون کے تحت حقوق مانگنے اور اسی قانون کے تحت ذمہ داریاں ادا کرنے میں۔اس تعلق کے راستے میں مسلمانوں کے اپنے حصے کے کام بھی ہیں۔وہ اپنے اندراختلاف کوجگہ دیں،عورتوں اورنوجوانوں کی بات سنیں،جرم یاجبرپرخاموشی اختیارنہ کریں اورمذہبی وابستگی کوشہری برتری کادعوی نہ بنائیں۔وسیع تربرطانوی معاشرے کاحصہ یہ ہے کہ وہ مسلمان کوپہلے ہی قدم پرشبہے کی نگاہ سے نہ دیکھے۔ان دونوں ذمہ داریوں کوایک ساتھ ادا کیا جائے تووفاداری کوئی نعرہ نہیں رہتی؛وہ مشترک زندگی کی روزانہ مشق بن جاتی ہے۔
برطانیہ میں اسلام اختیارکرنے والے افراد،بالخصوص خواتین، کے تجربات پربھی سنجیدہ تحقیق ہونی چاہیے۔ان کی موجودگی کوکسی طے شدہ سیاسی سازش کاثبوت بنانااتناہی بے بنیاد ہے جتناہرقبولِ اسلام کوکسی ایک مثالی وجہ سے منسوب کرنا۔ایمان کے فیصلے شخصی تجربے، مطالعے،تعلقات اورروحانی تلاش سے بنتے ہیں؛انہیں خودان افرادکی آوازمیں سنناچاہیے ۔ ایک آزادبالغ عورت اپنے مذہبی انتخاب کی خودگواہ ہوسکتی ہے۔اسے محض کسی اورکے خوف یاخوش فہمی کااستعارہ نہ بنایاجائے۔
اسلام کے بارے میں انصاف پسندتحریرکامطلب یہ نہیں کہ اس کے ماننے والوں سے متعلق ہرمشکل سوال روک دیاجائے۔اس کامطلب یہ ہے کہ سوال درست شخص سے،درست ثبوت کے ساتھ اوردرست حدودمیں پوچھاجائے۔اگرکوئی فردمجرم ہے توفردجواب دے۔اگرکوئی ادارہ ناکام ہواہے توادارہ جواب دے۔اگرکسی محلے میں فاصلے بڑھ رہے ہیں تورہائش،تعلیم اورمقامی پالیسی کے اسباب جانچے جائیں۔مذہب کانام لے کران سب تحقیقات کوایک ہی جواب میں بدل دیناآسان ضرورہے،مگرسچ تک پہنچنے کاراستہ نہیں۔
شہریت کی کسوٹی پرمساوات کاایک عملی امتحان بھی ہے۔نفرت انگیزحملے کاشکارہونے والامسلمان شہری پولیس کے پاس اعتمادسے جا سکے؛انتہاپسندکے دباؤسے خوفزدہ مسلمان بھی اسی اعتمادسے جاسکے؛اوراختلافِ رائے رکھنے والاغیرمسلم شہری بھی دھمکی کے بغیربول سکے۔یہ تینوں حقوق ایک ہی قانون کی شاخیں ہیں۔ان میں سے کسی ایک کوکاٹ کرباقی دو کو سرسبزنہیں رکھاجاسکتا۔برطانیہ اپنی تکثیری روایت کاحق اسی وقت اداکرے گاجب وہ مسلمان شہری کونہ معصومیت کاخودکارسرٹیفکیٹ دے،نہ دائمی شک کاحکم نامہ۔مسلمان بھی اسی قانون کے تابع ہیں جس کے تابع دوسرے شہری ہیں،اوراسی تحفظ کے حق دارہیں جس کاوعدہ دوسروں سے کیاگیاہے۔ تہذیب کی روشنی وہاں پہچانی جاتی ہے جہاں عدالت کے دروازے پرنام اورلباس دیکھ کرترازونہ بدلے۔یہی انصاف اس بحث کاحاصل ہونا چاہیے؛اسی سے برطانیہ بھی مضبوط ہوگااوراس کے تمام شہری بھی۔