پاکستانی سیاست میں دائروں کا سفر جاری ، ووٹ کی طاقت سے آئیں یا لائے جائیں، رسوائی لاد کر رخصت ہو جاتے ہیں
لاہور (اے ایف بی) مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک میں حکومتیں سول اور ملٹری بیوروکریسی کے نرغے میں آئے بغیر نہیں چل پاتیں۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر چور، کرپٹ، اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ، بھارتی ایجنٹ، اسرائیلی ایجنٹ، غدار، امریکی ایجنٹ، نااہل، بدکردار سمیت دنیا بھر کے الزامات اور القابات عائد کرنا ہماری قومی سیاست کا محبوب مشغلہ اور بیانیہ بن چکا ہے، یہ باتیں سنُتے سنُتے لوگوں کے کان پک چُکے اور دماغ تھک چکُے ہیں کیوں کہ ہر سیاسی جماعت اور سیاسی قائدین انہی الزامات کا نشانہ بنے اور اب بھی پاکستانی سیاست میں دائروں کا سفر جاری ہے۔سعد رفیق نے کہا کہ لیکن افسوس اہم ترین اور پیچیدہ قومی مسائل پر سٹیک ہولڈرز کے مابین مکالمہ کرنے پر غور و خوض اور ان کے حل تجویز کرنے کی معنی خیز کوششیں کسی سیاسی جماعت کی ترجیحات نظر آئیں نہ محسوس ہوئیں، ملک پر حکومت کرنے کی دعویدار اور خواہشمند جماعتیں مختلف موضوعات پر تھنک ٹینک بناتی ہیں نہ سبجیکٹ سپیشلسٹس کی خدمات حاصل کرکے کوئی روڈ میپ تیار کرنا ضروری سمجھتی ہیں اسی لیے ان کی حکومتیں سول اور ملٹری بیوروکریسی کے نرغے میں آئے بغیر نہیں چل پاتیں ۔کئی برس تک ہم یہ باتیں جماعتی فورمز پر اٹھاتے رہے لیکن بے سود رہا، کسی سیاسی جماعت نے مذکورہ موضوعات پر ہوم ورک کرنے کی زحمت ہی نہیں کی، نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ آپ ووٹ کی طاقت سے آئیں یا لائے جائیں، تمام تر اخلاص اور کوشش کے باوجود ایک دن رسوائی لاد کر رخصت ہو جاتے ہیں، واضح ہوجانا چاہیے کہ اپنے نظریات اور تنظیم کو پس پشت ڈالنے والے کوئی انقلاب لا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی جوہری تبدیلی ممکن ہے۔